کل کو یاد رکھئے
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۴، صفحہ ۳۷
کل کو یاد رکھئے
لارڈ کرن ۹۸ ا میں ہندوستان کے وائسرائے ہو کر انگلستان سے یہاں آئے۔
ان کے دو لڑکیاں تھیں ۔ تیسری پیدائش کے وقت لارڈ کرن اور لڈی کرن کی بہت خواہش تھی کہ ان کے یہاں لڑکا پیدا ہو۔ دونوں بڑی امیدوں کے ساتھ آنے والے وقت کا انتظار کر رہے تھے۔ مگر تیسری بار بھی مارچ ۱۹۰۳ میں ان کے یہاں لڑکی پیدا ہوئی ۔ اس وقت ان کا قیام نالدرا میں تھا اس مناسبت سے انھوں نے اپنی لڑکی کا نام الکنز نلدر اکرزن رکھا ۔ لارڈ کرن نے اس زمانہ میں اپنی بیوی کے نام جو خطوط لکھے ان میں سے ایک خط وہ ہے جو انھوں نے شملہ سے لندن بھیجا تھا۔ اس خط میں انھوں نے اپنی بیوی کو تسکین دلانے کی کوشش کی ۔ ان کے خط کا ایک جملہ یہ تھا : لڑکا یا لڑکی کا کیا فائدہ جب کہ ہم دونوں اس دنیا سے جا چکے ہوں گے۔
After all what does sex matter after we are both of us gone. لارڈ کرن کا یہ جملہ محض اپنی مایوس نفسیات کو چھپانے کی ایک کوشش تھی۔ لیکن یہی بات اگر آدمی کے اندر شعوری طور پر پیدا ہو جائے تو دنیا کا آدھا مسئلہ حل ہو جائے ۔ دولت ، اولاد ، اقتدار ، یہی وہ چیزیں ہیں جن کو آدمی سب سے زیادہ چاہتا ہے اور ان کو حاصل کرنے کے لئے سب کچھ کر ڈالتا ہے۔ اگر آدمی یہ سوچ لے کہ کسی چیز کو پانے کا کیا فائدہ جب کہ چند ہی روز بعد اس کو چھوڑ کر چلا جانا ہے تو لوگوں کے اندر قناعت آجاتے ، اور دنیا کا تمام ظلم و فساد ختم ہو جائے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ یہاں پانے اور نہ پانے میں بہت زیادہ فرق نہیں۔ جو پانا اگلے روز کھونا بننے والا ہو اس پانے کی کیا قیمت ہے ۔ آدمی اپنی ساری کوشش خرچ کر کے جو چیز حاصل کرتا ہے وہ صرف اس لئے ہوتی ہے کہ اگلے لمحہ وہ اس کو کھو دے ۔ ہر زندگی بالآخر موت سے دوچار ہونے والی ہے ، ہر وہ محبوب چیز جس کو آدمی اپنے گردوپپیش جمع کرتا ہے اس کو چھوڑ کر وہ اس دنیا سے ہمیشہ کے لئے چلا جانے والا ہے۔ آدمی " آج " میں جیتا ہے ، وہ " کل " کو بالکل بھولا ہوا ہے۔ آدمی دوسرے کا گھر اجاڑ کر اپنا گھر بناتا ہے حالاں کہ اگلے دن وہ قبریں جانے والا ہے۔ آدمی دوسرے کے اوپر چھوٹے مقدمے چلا کر اس کو انسانی عدالت میں لے جاتا ہے حالاں کہ فرشتے خود اس کو خدا کی عدالت میں لے جانے کے لئے کھڑے ہوئے ہیں۔ آدمی دوسرے کو نظر انداز کر کے اپنی عظمت کے گنبد میں خوش ہوتا ہے حالاں کہ بہت جلد اس کا گنبد اس طرح ڈھڈ جانے والا ہے کہ اس کی ایک اینٹ بھی باقی نہ رہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1984 All issues