دین فطرت
الرسالہ، مئی ۱۹۸۴، صفحہ ۱۰
دین فطرت
اگر ایک آدمی کو سمندر میں سفر کرنا ہو تو وہ ایسا نہیں کرتا کہ جس طرح سے وہ خشک زمین پر چلتا ہے اسیی طرح وہ اپنے پیروں پر چلتا ہوا سمندر میں داخل ہو جائے۔ بلکہ اس وقت وہ ایک کشتی تیار کرتا ہے اور کشتی میں بیٹھ کر سمندر میں اپنا سفر جاری کرتا ہے۔
جب ایک آدمی ایسا کرتا ہے تو وہ گویا اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ وہ اپنی بنائی ہوئی دنیا میں نہیں ہے بلکہ خدا کی بنائی ہوئی دنیا میں ہے جس کے خود اپنے قوانین ہیں۔ وہ مجبور ہے کہ خدا کی اس خارجی دنیا سے کامل مطابقت کرے۔ آدمی اگر دنیا کو اپنی بنائی ہوئی دنیا سمجھتا تو وہ سمندر میں بھی اسی طرح چلنے لگتا جس طرح وہ خشکی پر چلتا ہے۔
عالم فطرت سے مطابقت کا یہ طریقہ تمام انسان اپنی زندگی کے ۵۰ فی صد حصے میں اختیار کئے ہوئے ہیں۔ وہ اس سے ذرا بھی انحراف نہیں کرتے۔ مگر زندگی کے بقیہ ۵۰ فی صد حصے میں وہ اس کو چھوڑے ہوئے ہیں۔ اسلام اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ یہ دعوت دیتا ہے کہ انسان اپنی زندگی کے دوسرے نصف حصہ میں اس طریقہ کو اختیار کرلے جس کو وہ اپنی زندگی کے پہلے نصف حصہ میں عملاً اختیار کئے ہوئے ہے۔
انسان کی زندگی کا ایک پہلو طبعی ہے اور دوسرا پہلو اخلاقی۔ انسان اپنی زندگی کے طبعی پہلو میں اسی طرح خدا کا مطیع ہے جس طرح بقیہ چیزیں خدا کی پوری طرح مطیع ہیں۔ مگر اپنی زندگی کے اخلاقی پہلو میں وہ خدا کے حکم کو چھوڑ کر اپنی رائے پر چلتا ہے، وہ اطاعت کے بجائے بغاو ت کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ اسلام کو اختیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی زندگی کے اس تضاد کو ختم کر دے۔ وہ صد فی صد خدا کا مطیع و فرماں بردار بن جائے۔
مادی دنیا میں قانون فطرت سے انحراف کا نتیجہ چوں کہ فوراً سامنے آجاتا ہے اس لئے آدمی مادی پہلوؤں میں اس سے انحراف نہیں کرتا۔ مگر اخلاقی دنیا میں اس کے حقیقی نتائج فوراً نہیں نکلتے اس لئے یہاں آدمی خلاف ورزی کرتا ہے۔
ایک کسان فصل بونے کے وقت قانون زراعت کی پیروی نہ کرے تو فصل کاٹنے کے دن وہ محروم ہو کر رہ جاتا ہے۔ اسی طرح موجودہ دنیا میں جو آدمی اخلاقی قوانین کی پیروی نہ کرے اس کے حصہ میں آخرت کے دن محرومی اور شرمندگی کے سوا کچھ نہ آئے گا۔