Al-Risala · May 1984 · page 30

عالی ظرفی

الرسالہ، مئی ۱۹۸۴، صفحہ ۳۰

عالی ظرفی

دور عباسی کا ایک واقعہ تاریخ کی بعض کتابوں میں ان الفاظ میں آیا ہے:

خطب الخليفة العباسي المنصور يوماً في خليف منصور عباسی نے ایک روز شام کے اعراب کی جماعة من الاعراب بالشام، فقال: ايها ایک جماعت کے سامنے تقریر کی۔ اس نے کہا کہ الناس ينبغي ان نحمدوا الله علی ما وهبكم اے لوگو، تم کو چاہئے کہ تم میرے جیسے خلیفہ کے ملنے پر فيّ فاني منذ وليتكم ابعد الله عنكم الطاعون اللہ کا شکر ادا کرو۔ کیوں کہ جب سے میں خلیفہ ہوا ہوں الذي كان يفتك بكم - فقال له احد اللہ نے تم سے طاعون کو دور کر دیا ہے۔

المستمعين ان الله اکرم من ان يجمع علينا اس کے بعد سننے والوں میں سے ایک شخص نے کہا کہ اللہ فی وقت واحدا الطاعون والمنصور اس سے زیادہ کریم ہے کہ وہ ایک وقت میں ہمارے اوپر طاعون اور منصور دونوں کو جمع کر دے۔

اعرابی کا یہ جملہ سخت توہین آمیز تھا۔ عام طریقہ کے مطابق چاہئے تھا کہ خلیفہ منصور عباسی اس کو سن کر بھڑک اٹھے اور مذکورہ شخص کے قتل کا حکم دے دے۔ مگر خلیفہ منصور نہایت بلند حوصلہ آدمی تھا۔ اس نے اعرابی کے جملہ میں گستاخی کا پہلو دیکھنے کے بجائے جرأت اور ذہانت کے پہلو کو دیکھا۔ اس نے اس کی قدر کی اور حکم دیا کہ اس شخص کو خزانہ خاص سے انعام دیا جائے اور اس کو عزت کے ساتھ اس کے گھر پہنچایا جائے۔ پست اور کمینہ قسم کے لوگ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ کہنے والے نے ان کی موافق میں بات کہی ہے یا ان کی مخالفت میں۔ وہ موافق کو نوازتے ہیں اور مخالف کے دشمن بن جاتے ہیں۔ مگر بلند حوصلہ اور عالی ظرف لوگ موافقت اور مخالفت سے اوپر اٹھ کر سوچتے ہیں۔ وہ اصل بات کو دیکھتے ہیں نہ یہ کہ جو کچھ کہا گیا ہے وہ ان کے موافقت ہے یا ان کے خلاف۔

آخری سفر صفحات 48 قیمت تین روپیہ

‹ Previous page Next page › Contents of May 1984 All issues

Printed page