Al-Risala · May 1984 · page 31

خاموش تعمیر

الرسالہ، مئی ۱۹۸۴، صفحہ ۳۱

خاموش تعمیر

سوامی ویویکانند (۱۹۰27-۱۸۶۳) کو سچائی کی تلاش تھی۔ وہ سفر کرتے ہوئے راس کماری کے ساحل پر پہنچے ۔ یہاں سمندر کے اندر تقریباً ایک فرلانگ کے فاصلہ پر ایک چٹان ہے ۔ سوامی ویویکانند سمندر میں کود پڑے اور تیر کر چٹان کے اوپر پہنچے۔ یہاں انھوں نے دھیان گیان کیا اور اس کے بعد واپس آکر ہندو دھرم کے پرچار میں لگ گئے۔

آزادی کے بعد اس چٹان پر "ویویکانند کیندیر قائم کیا گیا ہے۔ تقریباً دو کروڑ روپے کے خرچ سے ایک بہت بڑا سنٹر بنایا گیا ہے جو ۱۹۷۰ء میں مکمل ہوا ہے۔ اس کا خاص مقصد ہے انسان بنانا (Man making) افراد کار کی فراہمی کے لئے اس سنٹر نے اپیل کی تھی، اس کے نتیجہ میں درجنوں اعلی تعلیم یافتہ افراد اور سینکڑوں نوجوانوں نے اپنی زندگیاں اس کے لئے وقف کر دیں۔ وہ اس مشن میں تاحیات کارکن (Life worker) بن گئے۔ (ٹائمس آف انڈیا، 27 جنوری ۱۹۸۴) انھیں میں سے ایک ڈاکٹر ایچ آر لکشیندر ہیں۔ وہ امریکہ میں خلائی پرواز مرکز (Space Flight Centre) میں اعلی عہدہ پر تھے۔ وہ اس کو چھوڑ کر اب ویویکانند کیندیر (کنیماکاری) میں معمولی زندگی گزار رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہاں میں اپنے آپ کو بے جگہ محسوس نہیں کرتا۔ ایک سائنس داں کا کام سچائی کی تلاش ہے۔ اور میری تلاش بدستور جاری ہے۔ پہلے یہ میکانیکل انجینئر نگ کے میدان میں تھی، اب یہ انسانی انجینئرنگ کے میدان میں ہے: Earlier it was in mechanical engineering, now it is in human engineering. ویویکانند سنٹر اس وقت خاص طور پر چار میدانوں میں کام کر رہا ہے۔ تعلیم، ،دیہی ترقی، یوگا ریسرچ اور رسائل اور کتابوں کی اشاعت سیکڑوں لوگ اپنے اعلی عہدے اور آرام کی زندگی کو چھوڑ کر اس کے پروگرام کے تحت مختلف ریاستوں میں خاموشی کے ساتھ جدوجہد میں مصروف ہیں۔ ڈاکٹر لکشیندر کے الفاظ میں، یہ ان کے لئے ایک بھر پور زندگی ہے، ان کو پورا اطمینان ہے کہ وہ ایک کام میں لگے ہوئے ہیں:

It is indeed a rich life - rich in Job satisfaction. وہی قوم زندہ قوم ہے جس میں اعلی صلاحیت کے لوگ اس قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہو جائیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1984 All issues

Printed page