کوئی معیار نہیں
الرسالہ، مئی ۱۹۸۴، صفحہ ۳۲
کوئی معیار نہیں
ٹام آلٹر (Tom Alter) ایک امریکی نژاد هندوستانی ایکٹر ہیں۔ ہندوستان میں لیے قیام کی وجہ سے وہ اردو سے بخوبی واقف ہو گئے ہیں۔ انھوں نے ایک انٹرویو میں اپنے بارہ میں کہا کہ میں رواں اردو بولتا ہوں۔ کیوں کہ میرا گھر مسوری میں ہے اور مسوری میں ہر آدمی اردو بولتا ہے، اردو جاننا میرے فلمی پیشہ میں میرے لئے واقعہ مددگار ثابت ہوا ہے (ہندوستان ٹائمز ۱۵ جنوری ۱۹۸۴) نام آلٹر نے کہا کہ میں امریکہ کے مقابلہ میں ہندوستان میں فلمی کام کرنا پسند کرتا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ میں کوئی فلم اگر فنی حیثیت سے معیار کے مطابق نہیں ہے تو فلم ناکام ہو جائے گی۔ مگر ہندوستان میں اگر فلم فنی حیثیت سے خراب ہو تب بھی فلم چل جاتی ہے۔ ایک خراب فلم کے ذریعہ بھی یہاں دولت کمائی جاسکتی ہے :
In America, if the technique is not upto standard, the film flops. But here in India even if the technique is bad, the film runs. A bad film also makes money-here. مغربی ملکوں میں ہر چیز کی معیار بندی (Standardisation) ہو گئی ہے۔ جو چیز معیار سے کم ہو وہ لوگوں کے درمیان قبولیت حاصل نہیں کرتی۔ اس کے برعکس ہندوستان اور اس قسم کے دوسرے ملکوں میں معیار بندی نہیں ہوئی ہے۔ اس لئے ان ملکوں میں ہر چیز چل جاتی ہے خواہ وہ معیار کے مطابق ہو یا معیار کے مطابق نہ ہو۔
مسلم دنیا کا حال اس معاملہ میں شاید سب سے زیادہ خراب ہے۔ مسلم دنیا میں تیسرے درجہ کا اخبار نکال کر بھی آپ صحافی بن سکتے ہیں۔ تاریخ کے ردی خانہ میں جانے والی کتابیں چھاپ کر بھی مصنفین کی فہرست میں آپ کا نام درج ہو سکتا ہے۔ بے قیمت شاعری اور بے معنی خطابت کا مظاہرہ کرکے بھی آپ کو مفکر اسلام کا خطاب مل سکتا ہے۔ ایک بے بنیاد جذباتی نعرہ لگا کر بھی آپ قوم کے عظیم معمار کہے جا سکتے ہیں۔
مزید یہ کہ جب آپ کا جذباتی نعرہ قوم کو گڑھے میں دھکیل دے تو آپ نہایت آسانی سے کوئی (Scapegoat) پا جائیں گے جس کے سر سارا الزام لگا کر بدستور اپنے معتقدین کے درمیان قوم کے نجات دہندہ بنے رہیں ۔