Al-Risala · May 1984 · page 33

اسلام برائے فخر

الرسالہ، مئی ۱۹۸۴، صفحہ ۳۳

اسلام برائے فخر

"اسلام" ذمہ داری کا عنوان ہے نہ کہ فخر کا۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان اسلام کا زبر دست چرچا ہے مگر اسلام کی برکتیں ان میں ظاہر نہیں ہورہی ہیں۔ اس کی واحد سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ اسلام سے وہ فخر کی غذا لے رہے ہیں۔ وہ اس کو اپنے لئے ذمہ داری کا عنوان نہ بناسکے۔

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان جن لوگوں کو زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی، وہ وہی اشخاص تھے جنہوں نے مسلمانوں کے لئے ان کی پر فخر نفسیات کی تسکین کا سامان فراہم کیا۔ شاعروں میں علامہ اقبال اس سلسلے میں سب سے چوٹی کے مقام پر ہیں۔

نثر کی دنیا میں جن لوگوں کا نام لیا جاسکتا ہے، ان میں سے ایک علامہ شبلی نعمانی ہیں۔ علامہ شبلی نے اسلام کی بڑی بڑی شخصیتوں پر کتابیں لکھیں۔ مگر اس سلسلہ تصانیف کے لئے انھیں جو موزوں ترین عنوان ملا وہ تھا -------- "ناموران اسلام"

"الفاروق" علامہ شبلی نعمانی کی مشہور کتاب ہے۔ اس کتاب میں حضرت عمر فاروق کے بہت سے کارناموں کے ساتھ مصنف نے یہ بتایا ہے کہ انھوں نے ’’صیغہ جنگ" کو جو وسعت دی تھی اس کے لئے کسی قوم اور کسی ملک کی تخصیص نہ تھی۔ یہاں تک کہ مذہب وملت کی بھی کچھ قید نہ تھی۔ والنٹیر فوج میں تو ہزاروں مجوسی شامل تھے جن کو مسلمانوں کے برابر مشاہرے ملتے تھے، اس طرح غیر قوموں کے افراد کی فوجی نظام میں شرکت کی بہت سی مثالیں دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

"لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے کہ صیغۂ جنگ کی یہ وسعت جس میں تمام قوموں کو داخل کر لیا گیا تھا صرف اسلام کی ایک فیاضی تھی، ورنہ فتوحات ملکی کے لئے عرب کو اپنی تلوار کے سوا اور کسی کا ممنون ہونا نہیں پڑا (حصہ دوم، صفحہ ۹۹)

یہ فقرہ سراسر فخر کے جذبہ سے نکلا ہوا فقرہ ہے۔ اس کا اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں، اس کو پڑھ کر ایک مسلمان خوش ہو سکتا ہے۔ مگر غیر مسلم جب اس کو پڑھے گا تو اسلام کے اس "قومی تصور" سے اسے کوئی دل چسپی نہ ہوگی۔

اس قسم کی تمام چیزیں در اصل اس غلطی کی قیمت ہیں کہ ہم نے غیر مسلموں کو صرف حریف کی نظر سے دیکھا۔ ہم ان کو اپنا مدعو نہ بناسکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1984 All issues

Printed page