استحکام
الرسالہ، مئی ۱۹۸۴، صفحہ ۳۴
استحکام
اللہ تعالیٰ نے اپنی دنیا میں ہر قسم کی عملی مثالیں قائم کر دی ہیں۔ مثلاً اس نے درختوں میں دو قسم کے درخت بنائے ۔ ایک بیل ، اور دوسرے بڑے بڑے پھل دار درخت ۔ بیل مہینوں میں پھیلتی ہے اور پھر مہینوں ہی میں ختم ہو جاتی ہے ۔ اس کے برعکس درخت سالوں میں تیار ہوتا ہے۔ اور پھر سالوں اور بعض اوقات صدیوں تک زمین پر قائم رہتا ہے۔ اس طرح دو مختلف قسم کی مثالیں کھڑی کر کے خدا اپنی خاموش زبان میں یہ کہہ رہا ہے کہ ہم کیا طریقہ اختیار کریں اور کون سا طریقہ اختیار نہ کریں ۔ ملت کی تعمیر کے معاملہ میں ہم کو چاہئے کہ ہم بیل کی طرح نہ پھیلیں بلکہ درخت کی طرح بڑھنے کی کوشش کریں۔ بیل کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ آناً فاناً بڑھتی ہے مگر چند ہی مہینوں میں سوکھ کر ختم ہو جاتی ہے۔ ابتدا میں چاہے وہ ایک فرلانگ تک پھیلی ہوئی نظر آئے مگر آخر کار وہ قدموں کے نیچے بھی دکھائی نہیں دیتی۔
اس کے برعکس درخت کا یہ حال ہوتا ہے کہ اگر چہ وہ سالہا سال کے انتظار کے بعد تیار ہوتا ہے مگر اس کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں۔ وہ جتنا اوپر دکھائی دیتا ہے اتنا ہی وہ زمین کے اندر بھی چھپا ہوتا ہے۔ وہ سطح زمین سے گزر کر اس کی گہرائیوں سے اپنے لئے غذا حاصل کرتا ہے۔ کوئی درخت جب ایک بار تیار ہو جاتا ہے تو پھر وہ سو سال تک لوگوں کو اپنا پھل اور اپنا سایہ دیتا رہتا ہے۔ اس سے لوگوں کو صرف فائدہ ملتا ہے۔ کسی اعتبار سے بھی وہ لوگوں کے لئے نقصان کا سبب نہیں بنتا۔ اسی طرح ملت کی تعمیر میں توسیع سے زیادہ استحکام کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ استحکام کے بغیر توسیع ایسی ہی ہے جیسے بنیاد کے بغیر مکان کی تعمیر۔
جو معاملہ درخت کا ہے وہی انسانی زندگی کا بھی ہے۔ اگر آپ ٹھوس اور دیر پا تعمیر چاہتے ہیں تو اس کے لئے آپ کو صبر آزما انتظار کے مرحلہ سے گزرنا ہوگا۔ اور لمبے عرصہ تک مسلسل محنت کرنی پڑے گی۔ لیکن اگر آپ بچوں کا گھروندا بنانا چاہتے ہوں تو پھر صبح و شام میں ایسا گھروندا بن کر تیار ہو سکتا ہے۔ البتہ ایسی حالت میں آپ کو اس حادثہ کا سامنا کرنے کے لئے بھی تیار رہنا چاہئے کہ جتنی دیر میں آپ کا گھر وند ابن کر کھڑا ہوا ہے ، اس سے بھی کم مدت میں وہ دوبارہ زمین بوس ہو جائے۔ خط و کتابت میں خریداری نمبر یا ایجنسی نمبر کا حوالہ ضرور دیں۔