یہ اختلاف
الرسالہ، مئی ۱۹۸۴، صفحہ ۳۵
یہ اختلاف
ہفتہ وار انکشاف (جھانسی) ۲۱ دسمبر ۱۹۸۳ میں ایک مختصر مضمون نظر سے گذرا یہ سنیوں کی مسجد ہے۔
یہ شیعوں کی مسجد ہے۔
یہ اہل حدیث کی مسجد ہے۔
یہ بریلویوں کی مسجد ہے۔
یہ دیوبندیوں کی مسجد ہے۔
یہ مسجد باطنیان ہے۔
یہ مسجد منصوریان ہے۔
اس مسجد میں سلام پڑھنا منع ہے۔
اس مسجد میں تسیفی جماعت قیام نہیں کر سکتی۔
میں ایک نومسلم ہوں۔ قرآن کی تعلیمات سے متاثر ہو کر میں نے اسلام قبول کیا ہے۔ اب کوئی مجھے بتائے کہ میں کس مسجد میں نماز ادا کروں۔ “ یہ ایک چھوٹی سی تصویر ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی حالت کیا ہے سلمان ہر طرف جھوٹے نعروں میں الجھے ہوئے ہیں اور خود ساختہ مسائل کی بنیاد پر انھوں نے خدا کے ایک دین کو بہت سے دینوں میں بانٹ رکھا ہے۔
ایک شخص اپنے جسم کے کپڑے کو پھاڑ کر اس کے 72 ٹکڑے کر ڈالے تو لوگ اس کو پاگل کہیں گے۔ مگر جن لوگوں نے خدا کے دین کو متفرق کر کے اس کو72 ٹکڑوں میں بانٹ رکھا ہے وہ پاگل ہی نہیں بلکہ مجرم ہیں۔ ایسے لوگ دین داری کا انعام نہیں پا سکتے۔ البتہ یہ اندیشہ ہے کہ ان کو خدا کے دین کو بگاڑنے والا قرار دے کر ان پر مقدمہ چلایا جائے۔
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا جو حال ہے وہ اس آیت کا مصداق ہے جو قرآن میں یہودیوں کے بارہ میں آئی تھی ۔ انھوں نے دین کو اپنے درمیان ٹکڑے ٹکڑے کر لیا۔ ہر گروہ کے پاس جو ہے وہ اسی پر خوش ہے ( فتقطعوا امرهم بينهم زبرا، كل حزب بما لديهم فرحون ، المومنون ۵۳)