زندگی کی قوت
الرسالہ، مئی ۱۹۸۴، صفحہ ۳۶
زندگی کی قوت
گھر کے آنگن میں ایک بیل لگی ہوئی تھی۔ مکان کی مرمت ہوئی تو وہ ملبہ کے نیچے دب گئی۔ آنگن کی صفائی کراتے ہوئے مالک مکان نے بیل کو کٹوا دیا۔ دور تک کھود کر اس کی جڑیں بھی نکلوا دی گئیں اس کے بعد پورے صحن میں اینٹ بچھا کر اس کو منٹ سے پختہ کر دیا گیا۔
کچھ عرصہ بعد بیل کی سابق جگہ کے پاس ایک نیا واقعہ ہوا۔ پختہ اینٹیں ایک مقام پر ابھر آئیں، ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کسی نے دھکا دے کر انہیں اٹھا دیا ہے۔ کسی نے کہا کہ یہ چوہوں کی کارروائی ہے کسی نے کوئی اور قیاس قائم کرنے کی کوشش کی۔ آخر کار اینٹیں ہٹائی گئیں تو معلوم ہوا کہ بیل کا پودا اس کے نیچے مڑی ہوئی شکل میں موجود ہے۔ بیل کی کچھ جڑیں زمین کے نیچے رہ گئیں۔ وہ بڑھ کر اینٹ تک پہنچیں اور اب اوپر آنے کے لئے زور کر رہی تھیں۔
"یہ پتیاں اور انکھوے جن کو ہاتھ سے مسلا جائے تو وہ آٹے کی طرح پس اٹھیں، ان کے اندر اتنی طاقت ہے کہ اینٹ کے فرش کو توڑ کر اوپر آ جائیں" مالک مکان نے کہا۔ "میں ان کی راہ میں حائل نہیں ہونا چاہتا۔ اگر یہ بیل مجھ سے دوبارہ زندگی کا حق مانگ رہی ہے تو میں اس کو زندگی کا حق دوں گا،" چنانچہ انہوں نے چند اینٹیں نکلوا کر اس کے لیے جگہ بنادی۔ ایک سال بعد ٹھیک اسی مقام پر تقریباً پندرہ فٹ اونچی بیل کھڑی ہوئی تھی جہاں اس کو ختم کر کے اس کے اوپر پختہ اینٹیں جوڑ دی گئی تھیں۔
پہاڑ اپنی ساری وسعت اور عظمت کے باوجود یہ طاقت نہیں رکھتا کہ کسی پتھر کے ٹکڑے کو ادھر سے ادھر کھسکا دے۔ مگر درخت کے ننھے پودے میں اتنا زور ہے کہ وہ پتھر کے فرش کو دھکیل کر باہر آ جاتا ہے۔ یہ طاقت اس کے اندر کہاں سے آئی۔ اس کا سرچشمہ عالم فطرت کا وہ پر اسرار مظہر ہے جس کو زندگی کہا جاتا ہے۔ زندگی اس کائنات کا حیرت انگیز واقعہ ہے۔ زندگی ایک ایسی طاقت ہے جس کو کوئی دبا نہیں سکتا۔ اس کو کوئی ختم نہیں کر سکتا۔ اس کو پھیلنے اور بڑھنے کے حق سے کوئی محروم نہیں کر سکتا۔ زندگی ایک ایسی قوت ہے جو اس دنیا میں اپنا حق وصول کر کے رہتی ہے۔ جب زندگی کی جڑیں تک کھود دی جاتی ہیں، اس وقت بھی وہ کہیں نہ کہیں اپنا وجود رکھتی ہے اور موقع پاتے ہی دوبارہ ظاہر ہو جاتی ہے۔ جب ظاہری طور پر دیکھنے والے یقین کر لیتے ہیں کہ اس کا خاتمہ کیا جا چکا ہے۔ اس وقت بھی وہ عین اس مقام سے اپنا سر نکال لیتی ہے جہاں اسے توڑا اور مسلا گیا تھا۔