Al-Risala · May 1984 · page 29

دعوتی قوت

الرسالہ، مئی ۱۹۸۴، صفحہ ۲۹

دعوتی قوت

مکہ کے آخری دور میں جب قریش کا ظلم مسلمانوں پر بہت بڑھ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے کہا کہ وہ مکہ چھوڑ کر حبش چلے جائیں۔ چنانچہ اسی سے اوپر کچھ لوگ حبش کی طرف ہجرت کر گئے۔ یہ اگر چہ ایک بہت تکلیف دہ واقعہ تھا۔ مگر اس میں اللہ نے خیر کی صورت پیدا فرمادی۔ اس کے ذریعہ اسلام کی دعوت بین الاقوامی دائرہ میں داخل ہوگئی۔

حبش کی طرف ہجرت کرنے والے مسلمانوں کی زندگی سراپا دعوت تھی۔ ان کی تبلیغ اور عمل سے بہت سے لوگ متاثر ہوئے۔ چنانچہ حبش سے عیسائیوں کی ایک جماعت تحقیق حال کے لئے مکہ آئی۔ ان کی تعداد تیس سے اوپر تھی۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور آپ کی زبان سے اسلام کا پیغام سنا۔ آپ نے قرآن کے حصے پڑھ کر انہیں سنائے۔ وہ اتنا متاثر ہوئے کہ سب کے سب اسلام کے دائرہ میں داخل ہو گئے۔

ابو جہل کو یہ واقعہ معلوم ہوا تو وہ آیا اور ان لوگوں سے کہا:

ما رایتارکبا احمق منکم ۔ ارسلکم قومکم ہم نے تم سے زیادہ احمق کوئی قافلہ نہیں دیکھا تعلمون خبرهذا الرجل فلم تطمئن مجالسکم تمہاری قوم نے تم کواس لیے بھیجا کہ تم اس آدمی کی عندہ حتى فارقتم دينكم وصدقتموه فيما خبر لاؤ۔ مگر تمہارا حال یہ ہوا کہ اس کے ساتھ بیٹھتے قال فقالوا سلام عليكم لا نجا هلکم لنا ہی تم نے اپنا دین چھوڑ دیا اور اس کا اعتراف کر لیا ما نحن عليكم ولا انتم عليه۔ انہوں نے جواب دیا : تم پر سلامتی ہو، ہم تم سے بحث نہیں کرتے۔ ہمارے لئے وہ ہے جس پر ہم ہیں اور تمہارے لئے وہ ہے جس پر تم ہو۔

حبش کے ان ایمان لانے والوں کا رویہ اللہ کو پسند آیا اور ان کے مطابق سورہ قصص ۵۵- ۵۲ اتریں۔

دعوت ایک ایسا قیمتی ہتھیار ہے جو ہر حال میں اپنا کام کرتا رہتا ہے ، خواہ داعی غالب ہو یا مغلوب۔ سچے داعی کے خلاف اس کے دشمنوں کی ہر کوشش الٹی پڑتی ہے۔ یہ داعی کا ایسا (Advantage) ہے جو داعیِ حق کے سوا کسی اور کو میسر نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1984 All issues

Printed page