Al-Risala · May 1984 · page 16

آخرت کی پکار

الرسالہ، مئی ۱۹۸۴، صفحہ ۱۶

آخرت کی پکار

ایک مسئلہ آدمی کے ذہن پر بہت زیادہ چھایا ہوا ہو تو دوسرے تمام مسائل سے اس کی نظریں ہٹ جاتی ہیں۔ وہ اپنے مخصوص مسئلہ کا اس طرح مبلغ بن جاتا ہے جیسے کہ بس وہی سارا مسئلہ ہے۔ اس کے سواکسی اور مسئلہ کا کوئی وجود نہیں۔

کارل مارکس کے ذہن پر" معاش" کا مسئلہ چھا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مذہب، اخلاق، فلسفہ، ہر دوسری چیز کو اس نے نظر انداز کر دیا۔ ٹالسٹائی کے ذہن پر" انسانیت" کا غلبہ تھا۔ اس نے انسانیت کی باتیں اس طرح بہت کرار ہیں گویا دوسرے سیاسی اور اقتصادی پہلوؤں کی اس کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں۔ ہندستان میں بہت سے لیڈروں پر آنہ ادی وطن کا خیال چھا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دوسری تمام چیزیں ان کے یہاں غفلت کے خانہ میں چلی گئیں۔

یہی معاملہ ایک اور صورت میں حق کے داعی کا ہے۔ حق کے داعی کی نظر میں سب سے زیادہ اہمیت آخرت کی ہوتی ہے ۔ وہ جہنم سے سب سے زیادہ ڈرتا ہے اور جنت کا سب سے زیادہ مشتاق ہوتا ہے۔ اس کے قدرتی نتیجہ کے طور پر یہ ہوتا ہے کہ دوسرے تمام مسائل اس کی نظر میں ایسے بن جاتے ہیں جیسے کہ ان کا کوئی وجود نہیں۔

مزدور اور صنعت کار کے معاملات کیا ہیں۔ ملک پر کس شخص یا کس قوم کی حکومت ہے۔ عہدوں کی تقسیم میں کس کو زیادہ حصہ مل رہا ہے اور کس کو کم۔ ایک قوم نے دوسری قوم کے خلاف کیا جارحانہ منصوبے بنارکھے ہیں۔ اس طرح کی تمام چیزیں داعی حق کی نظر میں غیر اہم ہوتی ہیں۔ دنیا کے مسائل اس کے لئے اسی طرح نا قابل ذکر بن جاتے ہیں جس طرح عام قائدین کے لئے موت اور آخرت کے مسائل ناقابل ذکر بنے ہوئے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ یہاں صرف دو ہی پکاریں ہیں۔ ایک دنیا کی پکار، دوسری آخرت کی پکار۔ آج تمام پکارنے والوں کا یہ حال ہے کہ وہ لوگوں کو دنیا کی طرف بلا رہے ہیں۔ وہ لوگوں کو سیاسی اور معاشی اور سماجی خطرات سے آگاہ کر رہے ہیں۔ بظاہر ان میں سے کوئی سیکولر اصطلاحوں میں بول رہا ہے اور کوئی مذہب کی اصطلاحوں میں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے سب کے سب ایک ہیں۔ کیوں کہ سب کے سب دنیا کے مسائل کو اپنی تو جہات کا مرکز بنائے ہوئے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1984 All issues

Printed page