Al-Risala · May 1984 · page 24

ہمارا المیہ

الرسالہ، مئی ۱۹۸۴، صفحہ ۲۴

ہمارا المیہ

سر اینڈریو ہکسلے (Sir Andrew Huxley) ایک نوبل انعام یافتہ سائنس داں ہیں۔ وہ رائل سوسائٹی (لندن) کے صدر ہیں۔ 17 جنوری ۱۹۸۴ء کو انھوں نے انڈین نیشنل سائنس اکیڈمی (Science and Politics) نئی دہلی، میں لکچر دیا۔ اس کا عنوان تھا سائنس اور سیاست انھوں نے کہا کہ سائنس کی تحقیقات میں جو غیر معمولی وسائل درکار ہوتے ہیں وہ اس وقت صرف روس اور امریکہ کو حاصل ہیں۔ برطانیہ میں بھی اس سلسلے میں کافی کام ہو رہا ہے مگر وہ صرف مغربی یورپ کے ساتھ اتحادی پروگرام (Collaborative programme) کے ذریعہ ممکن ہوا ہے نہ کہ ذاتی وسائل کے ذریعہ (ٹائمس آف انڈیا 18جنوری ۱۹۸۴ء)

انھوں نے بتایا کہ اس معاملہ میں سب سے زیادہ درد ناک حال غیر ترقی یافتہ ممالک کا ہے۔ وہ سائنسی تحقیقات میں سب سے پیچھے ہیں حالانکہ صنعتی ممالک بہترین صلاحیتوں کو انھیں زیر ترقی ممالک سے لے Industrialised countries are drawing the best of the talent from : رہے ہیں developing countries. کیسی عجیب بات ہے۔ جن نوجوانوں کے سر پرستوں نے مغربی قوموں سے لڑائی کی تھی کہ وہ ان کے ملکوں کو لوٹ رہے ہیں اور بے پناہ قربانی کے بعد ان کے قبضہ سے آزادی حاصل کی تھی۔ اب انھیں کی بہترین اولاد خود اپنی مرضی سے بھاگ کر ان ملکوں میں جا رہی ہے تاکہ وہ ان کی صلاحیتوں کو لوٹیں اور ان کے ذریعہ اپنی عالمی قیادت کو برقرار رکھیں۔

اس دوسری لوٹ سے بچنے کی واحد صورت وہی ہے جس کو موجودہ زمانہ میں برطانیہ نے اختیار کیا ہے یعنی مختلف ممالک کے مشترکہ وسائل سے اعلی ترین سائنسی تحقیق کا انتظام کرنا تا کہ ان ملکوں کے اعلیٰ سائنسی ذہنوں کو خود اپنے ملک میں کام کے وہی مواقع مل سکیں جس کے لئے وہ مغربی ملکوں میں جاتے ہیں۔ مگر غیر ترقی یافتہ ممالک (تیسری دنیا) میں دو ملک بھی ایسے نہیں ہیں جو حقیقی معنوں میں اتحاد و اشتراک کے ذریعہ کام کرنے کے لئے تیار ہوں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ تخریب کے عنوان پر لوگوں کو متحد کرنا سب سے زیادہ آسان کام ہے اور تعمیر کے عنوان پر متحد کرنا سب سے زیادہ مشکل کام۔ کیسی عجیب تھی وہ آزادی جو خون کے بہاؤ کے ذریعہ حاصل کی گئی۔ اور کیسی عجیب ہے وہ غلامی جو صلاحیتوں کے بہاؤ (Brain drain) کے ذریعہ دوبارہ ہماری طرف لوٹ آئی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1984 All issues

Printed page