قرآن کا کرشمہ
الرسالہ، مئی ۱۹۸۴، صفحہ ۲۵
قرآن کا کرشمہ
جنوری ۱۹۸۳ میں حیدر آباد میں فرقہ وارانہ فساد ہوا۔ اس کے بعد سی آر پی کے جوان آئے اور گھروں کی تلاشیاں اور گرفتاریاں شروع ہوگئیں۔ ہر طرف خوف وہراس پھیلا ہوا تھا ۔ مولانا اکبر الدین قاسمی ( سلطان شاہی حیدر آباد) کا مکان عین فساد زدہ علاقہ میں تھا۔ ۹ جنوری کو وہ اپنے گھر میں تھے کہ باہر سے دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز آئی ۔ دروازہ کھولا تو باہر سی آر پی کے بارہ جوان کھڑے ہوئے تھے۔ وہ گھر کے اندر گھس آئے اور ایک ایک چیز کو دیکھنا شروع کیا کہ کوئی ہتھیار تو نہیں ہے۔ کوئی فسادی لڑکا تو گھر میں چھپا ہوا نہیں ہے۔ مولانا اکبر الدین قاسمی کے ساتھ اس وقت گھر میں صرف چار خواتین تھیں ۔ خواتین کو اندیشہ ہوا کہ اگر انھوں نے مولانا قاسمی کو گرفتار کر لیا تو گھر میں اس کے بعد کوئی مرد نہ رہے گا صرف عورتیں عورتیں رہ جائیں گی۔ سب کے دل تیزی سے دھڑک رہے تھے۔ تلاشی لینے والے سپاہی مختلف چیزوں کو دیکھتے ہوئے بالآخر ایک الماری پر پہنچے۔ وہاں ہاتھ ڈالا تو اس کے اندر ایک مجلد کتاب تھی۔
"کیا یہ قرآن ہے؟ " انھوں نے پوچھا "ہاں" صاحب خانہ نے جواب دیا۔
"کیا آپ قرآن پڑھتے ہیں؟ " سی آر پی گروہ کے افسر نے دوبارہ سوال کیا۔
"یہ ہی تو ہم لوگوں کا کام ہے" ہم تو مدرسہ کے لوگ ہیں۔ ہمارا یہی کام ہے کہ قرآن کو پڑھیں اور قرآن کو پڑھائیں۔
اس کے بعد سی آر پی کے افسر کا رخ بالکل بدل گیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا " یہاں سے چلو، یہاں کچھ نہیں ملے گا" اور پھر سب کے سب گھر سے نکل کر باہر چلے گئے ایسا کیوں ہوا۔ اس کی وجہ بالکل سادہ ہے۔ مولانا اکبر الدین قاسمی پہلے سی آر پی والوں کے لئے " صاحب مکان " تھے مگر بعد کو وہ ان کی نظر میں " صاحب قرآن " بن گئے۔ یہی فرق ہے جس کی وجہ سے اولاً انھوں نے ان کے اوپر شبہ کیا اور بعد کو انھیں صحیح و سالم چھوڑ کر واپس چلے گئے۔