صحیح رد عمل
الرسالہ، مئی ۱۹۸۴، صفحہ ۲۶
صحیح رد عمل
ابن خلدون نے اسلامی تاریخ کا ایک واقعہ ان الفاظ میں نقل کیا ہے : :
یحکى فی کتب السیر و التاریخ ان ابا موسی الاشعری عاقب جندیا فی جیش العراق ۔
فحلق شعر راسه ۔ فجمع الجندی الشعر و سافر به من العراق الى المدینة بالحجاز۔ و دخل على امیر المومنین عمر بن الخطاب رضی الله عنه فقذف بالشعر امامہ و قال فی غضب ۔ هکذا یا ابا منار رجالك ۔ فتهدل وجهه عمر و قال لان یکون الناس كلهم فی مثل شجاعة هذا احب الى من كل ما فتحنا من بلاد سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں بیان ہوا ہے کہ حضرت ابوموسی اشعری نے عراقی لشکر کے ایک سپاہی کو سزا دی۔ انھوں نے اس کے سر کے بال منڈوا دئے اس کے بعد سپاہی نے بالوں کو جمع کیا اور اس کو لے کر عراق سے مدینہ آیا۔ وہ امیرالمومنین حضرت عمر فاروق سے ملا۔ اس نے کٹے ہوئے بال حضرت عمر کے آگے ڈال دئے اور غصہ میں کہا۔ تمہارے آدمی اس طرح ہمارے ساتھ معاملہ کرتے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عمر کا چہرہ چمک اٹھا۔ انھوں نے کہا۔ اگر تمام لوگ اس آدمی کی طرح بہادر ہو جائیں تو وہ مجھے کو تمام ملکوں کی فتوحات سے زیادہ محبوب ہیں۔
حضرت عمر فاروق کے لئے واقعہ کو دیکھنے کے دو رخ تھے۔ ایک یہ کہ سپاہی نے اپنے افسر کی اور خود خلیفہ وقت کی گستاخی کی ہے۔ دوسرا یہ کہ وہ ایک بہادر انسان ہے۔ اور وقت کے حکمران کے سامنے کھڑے ہو کر بھی بے باکانہ اظہارِ خیال سے نہیں ڈرتا۔ حضرت عمر اگر واقعہ کو پہلے رخ سے دیکھتے تو وہ سپاہی کے اوپر بگڑ جاتے۔ وہ اس کو سزا دیتے یا اپنی مجلس سے نکلوا دیتے۔ مگر انہوں نے گستاخی کے پہلو کو نظر انداز کیا۔ انھوں نے صرف یہ دیکھا کہ سپاہی نے میرے سامنے جس جرات اور حوصلہ کا مظاہرہ کیا ہے ، یہ کسی انسان کا سب سے بڑا جوہر ہے اور یہی کسی آدمی سے بڑے بڑے کام کرواتا ہے۔
اسی طرح ہر واقعہ کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ ایک منفی اور دوسرا مثبت۔ منفی پہلو آدمی کے اندر صرف تخریبی نفسیات کو جگاتا ہے۔ اور مثبت پہلو اس کے اندر تعمیری نفسیات کو جگا کر اس کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے لئے بھی کارآمد بن سکے اور دوسروں کے لئے بھی۔ اس دنیا میں کوئی بڑا کام وہی لوگ کرتے ہیں جو واقعات کے مثبت پہلو کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ 1ر تو میں نے اسے اس کی کی کجھ لگی تڑی ہو ی پے