Al-Risala · May 1984 · page 46

اسلامی مرکز دہلی

الرسالہ، مئی ۱۹۸۴، صفحہ ۴۶

القرآن الحكيم (الفي)

پندرہویں صدی ہجری کی آمد پر ساری دنیا میں مختلف اسلامی تقریبات منائی گئی ہیں القرآن اکاڈمی (ببی دہلی) نے اس سلسلے میں طویل کوششوں کے بعد ایک اہم تاریخی پیش کش کی ہے یہ قرآن کا ایک منفرد نسخہ ہے ۔ جس کا نام "القرآن الحكيم الفی" ہے۔

اس قرآن کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس کا عام صفحہ ۲۳ سطری ہے اور ہر سطر الف سے شروع ہوتی ہے ۔ ہر پارہ چھ صفحات پر مشتمل ہے اور پورا قرآن ۱۹۶ صفحات میں مکمل ہو گیا ہے۔ اس میں نزول قرآن سے لے کر اب تک خطاطی کے مختلف نمونوں کو ہر سورہ کے شروع ہی میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کو 113،الگ ، الگ الگ نمونوں کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ اس طرح قرآن کی سات منزلوں میں سات دوروں کا طرز کتابت دکھایا گیا ہے۔

القرآن الحكيم الفی کی تیسوں پاروں کی کتابت سات سال میں مکمل ہوئی ہے اور اب تصحیح کے مراحل میں ہے، جس کے لئے عالمی مذہبی تعلیمی اداروں سے رابطہ قائم کیا گیا ہے۔ اُن سے اسناد صحت کے حصول کے بعد، سات رنگوں کے نو مختلف حاشیوں سے مزین کر کے آرٹ پیپر پر سنگاپور میں چھپوایا جا رہا ہے ۔ القرآن الحكيم الفی کے اطراف کے اندرونی آستر کے بعد کے صفحات پر مکتوبات نبوی کی تصویر شامل ہے ۔ نیز خلافت راشدہ کے زمانے میں ہرن کی جھلی پر لکھتے ہوئے قرآن کے صفحات کو عین اسی انداز سے منعکس کیا گیا ہے ۔ اس طرح القرآن الحكيم الفی کو پڑھنے والا قرآن پڑھنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی جان لیتا ہے کہ قرآن دور نبوی ، خلافت راشدہ دور بنوامیہ، دور عباسیه، دور فاطمیہ، دور عثمانیہ دور سلجوقیہ، خلجی، تغلقية غزنویہ اور دور مغلیہ وغیرہ میں کس کس رسم الخط میں لکھا جاتا رہا ہے۔ تاریخ انسانی کا سب سے زیادہ انوکھا واقعہ یہ ہے کہ قرآن تقریباً ڈیڑھ ہزار سال گذرنے کے باوجود اپنی اصل حالت میں محفوظ ہے۔ القرآن الحكيم الفی گویا اس حفاظت قرآن کی ایک دستاویز ہے۔ القرآن الحكيم الفی قرآن بھی ہے اور قرآن کی تاریخ بھی ۔ وہ اپنی مختلف خصوصیات کے ساتھ قرآن کا ایک دلآویز نسخہ ہے اور اسی کے ساتھ قرآن کی تاریخ حفاظت کا ایک خوبصورت مرقع بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1984 All issues

Printed page