Al-Risala · June 1984 · page 16

راستہ یہاں ہے

الرسالہ، جون ۱۹۸۴، صفحہ ۱۶

راستہ یہاں ہے

ہندوستان کی آریہ سماج نے اپنی ۷۶ سالہ جشن جو بلی کے موقع پر مختلف مقامات پر ہفتہ منانے کا انتظام کیا تھا۔ اس سلسلے میں سیوہارہ (بجنور) میں نومبر ۱۹۵۹ء میں ایک آل مذاہب کانفرنس ہوئی۔ اس موقع پر مختلف مذاہب کے نمائندے شریک ہوئے اور مثبت انداز میں اپنے اپنے مذہب کا تعارف پیش کیا۔ راقم الحروف نے اسلام کے نمائندہ کی حیثیت سے 27۹ نومبر ۱۹۵۹ء کو اپنا یہ مقالہ پڑھا۔

۲۔ ہندوستان میں ایک ادارہ ہے۔ اس کا صدر دفتر نئی دہلی میں ہے اور اس کا نام ہے مذاہب کی عالمی انجمن (World Fellowship of Religions) اس ادارہ کی تیسری سالانہ کانفرنس نئی دہلی میں ہوئی۔ اس میں ہندوستان کے علاوہ بیرونی ملکوں سے مختلف مذاہب کے نمائندے شریک ہوئے۔ اس موقع پر 27 فروری ۱۹۶۵ء کے اجلاس میں میں نے مذہب اور سائنس کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا۔

۳۔ آریہ سماج (الہ آباد) نے مئی ۱۹۶۰ء میں اپنی گولڈن جوبلی منائی۔ اس سلسلے میں ۲۲ مئی کو الہ آباد میں سرودھرم سمیلن کا ایک پروگرام ہوا۔ اس سمیلن میں مختلف مذاہب کے علماء نے شریک ہو کر اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ عنوان یہ تھا :

مانو وکاش کے لئے آپ کے ہی دھرم کو ماننا کیوں آوشیک ہے راقم الحروف نے اسلام کے نمائندہ کی حیثیت سے اپنا مقالہ (منزل کی طرف) پیش کیا۔ غیر مسلموں کے اجتماع میں اسلام کے تعارف کا مجھے بار بار موقع ملا ہے اور ہر بار یہ تجربہ میرے لئے بہت خوش گوار ثابت ہوا ہے۔ بجنور کے مذکورہ بالا اجتماع میں صدارت کی کرسی پر مراد آباد کے ایک آریہ سماجی وکیل تھے۔ آخر میں جب انہوں نے اپنی صدارتی تقریر کی تو انہوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں اور دوسرے مذاہب کے پیروؤں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے صفائی کے ساتھ کہا کہ یہاں مختلف مذاہب کے نمائندوں نے اپنے اپنے مذہب کو پیش کیا ہے مگر،، حقیقت یہ ہے کہ صرف مولانا صاحب تھے جنہوں نے موضوع کا حق ادا کیا ،،۔ یہ اعتراف حقیقت کسی شخص کا نہیں بلکہ اسلام کا تھا۔ اسلام کو جب بھی میدان میں لایا جائے گاوہ دوسرے دینوں کے مقابلہ میں ہمیشہ برتر ثابت ہوگا۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1984 All issues

Printed page