راستہ یہاں ہے
الرسالہ، جون ۱۹۸۴، صفحہ ۱۷
ایک تقابل
مولانا سید ابوالحسن علی ندوی نے1946 میں پہلی بار حیدر آباد کا سفر کیا تھا۔ اس سفر کی روداد کے ذیل میں موصوف لکھتے ہیں :
” میں چوں کہ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے تنخواہ نہیں لیتا تھا ، میرے پاس واجبی کپڑے تھے ۔ اس سفر میں کوئی شیروانی بھی ساتھ نہیں تھی۔ شیروانی قديم ریاست حیدرآباد میں شریف انسان کی وردی تھی جس سے اس کے معیار کا اندازہ ہوتا تھا۔ بعض پروفیسر صاحبان سے ایک ہی دو بار ملنے سے اندازہ ہو گیا کہ شیروانی نہ ہونے کی وجہ سے وہ صحیح طریقہ پر ملتفت نہیں ہوئے۔ اس وقت ہمارے دارالعلوم کے ایک پشاورى طالب علم مولوی محمد شریف حیدرآباد میں تھے۔ میں نے اس غرض کے لئے ان کی شیروانی مستعار لی ۔ اس کے بعد میں نے دیکھا کہ نگاہیں بدل گئیں اور لوگ کسی قدر احترام سے ملنے لگے “ کاروانِ زندگی صفحہ ۳۲۲ اب دوسرا واقعہ دیکھئے ۔ حضرت عمر فاروق کی خلافت کے زمانہ میں اسلامی فوج کے مختلف نمائندے ایرانی فوج کے سپہ سالار رستم کے دربار میں گئے۔ ان میں سے ایک ربعی بن عامر بھی تھے۔ وہ رستم کے دربار میں پہنچے تو ان کے جسم پر نہایت معمولی کپڑے تھے۔ تاہم ان کے غیر معمولی کلام کو سن کر رستم مرعوب ہو گیا۔ اس وقت رستم اور اس کے درباریوں سے جو گفتگو ہوئی اس کا ایک حصہ یہ تھا : قال هل رأيتم قط اعزوار اجح من كلام هذا رستم نے کہا کیا تم نے اس آدمی کے کلام سے زیادہ الرجل ۔ فقالوا معاذ الله ان تميل الى شيئ من هذا مضبوط اور اعلیٰ بات کبھی دیکھی ہے۔ درباریوں وتدع دينك الى هذا الكلب۔ اما ترى الى ثيابم نے کہا ، خدا کی پناہ کہ آپ اس کی کسی بات کی طرف فقال ويلكم لا تنظروا الى الثياب وانظروا مائل ہوں اور اپنے دین کو چھوڑ کر اس کتے کے ساتھ الى الراي والكلام والسيرة۔ ان العرب ہو جائیں۔ کیا آپ نے اس کے کپڑے کو نہیں دیکھا، رستم يستخفون بالثياب والمأكل ويصونون الأحسنا نے کہا، تمہارا برا ہو، کپڑے کی طرف نہ دیکھو۔ بلکہ رائے (حياة الصحابه جلد اول صفحه ۲۲۱) اور بات اور کردار کی طرف دیکھو۔ عرب لوگ کپڑے اور کھانے کو ناقابلِ لحاظ سمجھتے ہیں۔ البتہ وہ حسب نسب کی حفاظت کرتے ہیں ۔
گویا ہمارے مسلم دانشوروں میں وہ حقیقت شناسی بھی نہ تھی جو قدیم زمانہ میں ایران کے پارسی لیڈروں کو حاصل تھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1984 All issues