Al-Risala · June 1984 · page 18

وقت نہیں

الرسالہ، جون ۱۹۸۴، صفحہ ۱۸

وقت نہیں

ایک شخص کو بمبئی پہنچ کر ایک عرب ملازمت کے لئے انٹرویو دینا تھا۔ اس نے ٹرین میں اپنا ریزرویشن کرایا اور مقررہ وقت پر گھر سے اسٹیشن کے لئے روانہ ہوا۔ دہلی کی پر ہجوم سڑکوں سے گزرتے ہوئے کسی لڑکے نے اس کے رکشا کے اوپر کنکر پھینکا اس کا دوست یہ دیکھ کر بگڑ گیا۔ اس نے چاہا کہ رکشا سے اتر کر لڑکے کو پکڑے اور اس کو اس کی گستاخی کا سبق دے۔ آدمی نے اپنے دوست کو پکڑ کر روک لیا۔ اس نے کہا ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ " ہمارے پاس اس کا وقت کہاں ہے" اور رکشا کو آگے بڑھا دیا۔

آدمی کا مطلب یہ تھا کہ مجھ کو فورا اسٹیشن سے ٹرین پکڑنی ہے۔ اور پھر بمبئی پہنچ کر اہم انٹرویو دینا ہے ۔ ایسے نازک لمحہ میں میرے پاس اتنا وقت کہاں کہ میں سڑک کے لڑکوں سے الجھوں میں لڑکے کی شرارت پر صبر کروں گا تاکہ میرا بمبئی کا انٹرویو خراب نہ ہونے پائے۔

یہ سنجیدگی جو لوگوں کو دنیا کے بارہ میں ہوتی ہے وہی سنجیدگی مزید اضافہ کے ساتھ مومن کے اندر آخرت کے بارہ میں ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں ایک صحابی کا واقعہ نقل کیا جاتا ہے : عن انس رضی اللہ عنہ قال انطلق رسول اللہ حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم اور صلی اللہ علیہ وسلم واصحابه حتى سبقوا آپ کے اصحاب روانہ ہوئے یہاں تک کہ وہ مشرکین المشرکین الی بدر و جاء المشرکون فقال سے پہلے بدر کے مقام پر پہنچ گئے۔ پھر مشرکین آئے۔ رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يقل من رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ تم میں سے کوئی شخص احد منكم الى شئى حتى اكون انا دونه فدانا کسی چیز کی طرف نہ بڑھے جب تک کہ میں نہ ہوں ۔ المشرکون فقال رسول الله صلى الله عليه جب مشرکین قریب آ گئے تو رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم وسلم قوموا الى جنة عرضها السموات والار نے کہا کہ ایسی جنت کی طرف اٹھو جس کی چوڑائی قال يقول عمیر بن الحمام الانصاری رضی الله آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔ راوی کہتے عنه يارسول الله جنة عرضها السموات والارض ہیں کہ حضرت عمیر انصاری نے کہا کہ اے خدا کے قال نعم قال . بخ بخ فقال رسول الله صلى الله رسول ، ایسی جنت جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین علیہ وسلم ما يحملك على قولك بخ بخ قال کے برابر ہے۔ آپ نے کہا ہاں۔ انھوں نے کہا لا والله يا رسول الله الآ رجاء ان اكون من واه واه - رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے کہا اهلها - قال فانك من اهلها ۔ فاخرج تمرات کہ تم نے واہ واہ کیوں کہا۔ انھوں نے کہا کہ اے خدا

‹ Previous page Next page › Contents of June 1984 All issues

Printed page