سب سے زیادہ خطر ناک
الرسالہ، جون ۱۹۸۴، صفحہ ۲۰
سب سے زیادہ خطر ناک
شیر کے ڈراونے چہرے کو دیکھ کر مشکل سے کوئی آدمی یقین کرے گا کہ اس پھاڑ کھانے والے درندہ سے بھی زیادہ خطرناک دشمن کوئی انسان کے لئے ہو سکتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان کا سب سے زیادہ خطرناک دشمن شیر یا بھیڑیا نہیں ہے۔ اس کے سب سے خطرناک دشمن وہ بیکٹیریا ہیں جو اتنے چھوٹے ہیں کہ خالی آنکھ سے نظر نہیں آتے۔ یہ بیکٹیریا اتنی تیزی سے اپنی نسل بڑھاتے ہیں کہ موافق حالات میں صرف دس گھنٹوں کے اندر ایک کیڑا اپنی نسل کے دس ہزار جان دار پیدا کر لیتا ہے۔ شیر یا بھیڑیا کہیں کسی ایک آدمی کو پھاڑتے ہوں گے مگر بیکٹیریا کی زد میں ہر آدمی ہر وقت ہوتا ہے۔ بیکٹیریا کی ہزاروں قسمیں ہیں۔ ہماری خوش قسمتی سے ان کی ۹۹ فی صد تعداد یا تو بے ضرر ہے یا ہمارے لئے مفید ہے۔ مگر ایک فی صد تعداد جو مضر ہے وہ بھی اتنی خطرناک ہے کہ آن کی آن میں آدمی کی جان لے سکتی ہے۔ میڈیکل سائنس کے مطابق تمام مہلک بیماریاں انھیں بیکٹیریا کی پیدا کردہ ہوتی ہیں۔ بیکٹیریا انتہائی چھوٹے ہونے کی وجہ سے ایسے راستوں سے انسان کے اندر داخل ہو جاتے ہیں جن کا روکنا عام طور پر آدمی کے بس میں نہیں ہوتا۔ لوگ عام طور پر بڑے بڑے حادثات کو جانتے ہیں اور ان کو اپنی تباہی کا سبب سمجھتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہمارے " چھوٹے چھوٹے دشمن" ہم کو اس سے کہیں زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں جتنا کہ بڑے بڑے دشمن۔ اور ہماری سب سے زیادہ خطرناک دشمن خود ہماری اپنی چھوٹی چھوٹی کوتا ہیاں ہیں جو ہم کو محسوس نہیں ہوتیں مگر وہ ہماری زندگی کو برباد کر کے رکھ دیتی ہیں۔
مثلا ہر شخص کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے روزانہ اوقات کا ایک حصہ بغیر استعمال کئے ہوئے گزار دیتا ہے۔ ہر شخص روزانہ ضروری مدوں میں کچھ نہ کچھ رقم خرچ کرتا رہتا ہے یہ وقت اور یہ سرمایہ ایک دن کے لحاظ سے تو بہت تھوڑا نظر آتا ہے، چند گھنٹے یا چند روپے لیکن اگر پورے سال اور آدمی کی پوری عمر کو ملا کر دیکھے تو معلوم ہوگا کہ ہر شخص اپنی تقریبا نصف عمر اور اپنی نصف کمائی کو بے نتیجہ چیزوں میں برباد کر رہا ہے۔ اس بربادی کو اگر پوری قوم پر پھیلائیے تو یہ نقصان اتنا زیادہ بڑھ جائے گا کہ اس کا شمار بھی ناممکن ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1984 All issues