سب سے زیادہ خطر ناک
الرسالہ، جون ۱۹۸۴، صفحہ ۲۱
ایک سفر ۷۔ ۸ مارچ ۱۹۸۳ء کو میرا قیام پونا میں تھا۔ اور اس کے بعد ۹۔ ۱۰۔ ۱۱ مارچ ۱۹۸۳ء کو بمبئی میں۔
اس دوران میں دونوں مقام پر پڑھے لکھے لوگوں کے درمیان خطابات کرنے کا موقع ملا۔ کثیر تعداد میں لوگوں سے ملاقات اور گفتگو ہوئی۔
پونا کی آبادی تقریباً 16 لاکھ ہے، جس میں مسلمان، سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ایک لاکھ ہیں۔ مگر مسلمانوں کا اپنا خیال یہ ہے کہ ان کی آبادی کسی طرح تین لاکھ سے کم نہیں ہے۔ یہی معاملہ بمبئی کا ہے، اور یہی معاملہ دوسرے مقامات کا بھی۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس کی وجہ کیا ہے۔ یہ کوئی واقعی حقیقت ہے کہ مسلمانوں کی آبادی سرکاری اعداد وشمار میں اصل سے کم دکھائی جاتی ہے، یا ایسا ہے کہ مسلمان اپنی آبادی کا خیالی اضافہ کرکے اپنے احساس حق تلفی کو تسکین دینا چاہتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں آپ جس شہر میں بھی جائیں آپ وہاں دینی اور اسلامی سرگرمیاں ہوتی ہوئی دیکھیں گے۔ ایک آدمی اس کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں کھاتے پیتے لوگوں میں سے ایک طبقہ کے درمیان ہیں۔ تقریباً ہر شہر میں کم از کم پچاس فیصد مسلمان ایسے بستے ہیں جو غریبی اور جہالت کا شکار ہیں۔ ان کو بقدر ضرورت بھی زندگی کا سامان میسر نہیں۔ مگر یہ پورا طبقہ ہر جگہ اندھیرے میں پڑا ہوا ہے۔ بہت کم اصلاحی یا اسلامی سرگرمیاں ملیں گی جو اس دوسرے طبقہ کے درمیان جاری ہوں۔ دوسرا مشاہدہ یہ ہوتا ہے کہ ہر شہر موجودہ زمانہ میں دو شہر کا نام ہے۔ ایک قدیم اور دوسرا جدید۔ قدیم شہر میں تنگ سڑکیں اور گھنی آبادیاں ہیں۔ اس کے باشندے زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو غریب اور جاہل ہیں۔ دوسرا جدید شہر یہ؛ یہاں کشادہ سڑکیں، پارک اور کھلے مکانات ہیں۔ یہاں کے رہنے والے وہ لوگ ہیں جو تعلیم یافتہ اور خوش حال ہیں۔ میں نے تقریباً ہر جگہ یہ پایا کہ ہر قسم کا فساد ہمیشہ قدیم شہر میں ہوتا ہے۔ جدید شہر والے حصہ میں کبھی کوئی فساد نہیں ہوتا۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ فساد“ کے مسئلہ کا سب سے زیادہ یقینی حل مسلمانوں کی تعلیمی اور اقتصادی حالت کو بہتر بنانا ہے، جب کہ یہی وہ میدان ہے جہاں ملت کے مجاہدین میں سے کوئی بھی سرگرم عمل نہیں۔ موجودہ سفر میں اور دوسرے سفروں میں مجھے تجربہ ہوا کہ اس وقت قوم کے سنجیدہ طبقہ میں سب سے زیادہ جس چیز کی طلب ہے وہ اتحاد ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ ایسی باتیں کہی جائیں جو اتفاقی ہوں ۔ اختلافی باتیں سرے سے ذکر نہ کی جائیں۔ مگر ہر آدمی صرف دوسروں کو متحد کرنا چاہتا ہے نہ کہ اپنے آپ کو۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1984 All issues