Al-Risala · June 1984 · page 23

سب سے زیادہ خطر ناک

الرسالہ، جون ۱۹۸۴، صفحہ ۲۳

پونہ کے سفر سے واپسی کے بعد پونہ کے بعض احباب نے وہاں کے ایک انگریزی اخبار کی کٹنگ بھیجی تھی۔ اس کا ذکر بھی پونہ کے سفر کی مناسبت سے یہاں کیا جاتا ہے۔

راجندر رگل، دلیپ سوتر ، شانتا رام جگتاپ اور منور ہارون شاہ، چاروں دوست تھے۔ انھوں نے اپنی صلاحیت کا استعمال یہ تلاش کیا کہ مجرمانہ کارروائیوں کے ذریعہ رات دن میں کروڑ پتی بن جائیں۔

ان نوجوانوں نے دولت کی حرص میں دس آدمیوں کو قتل کر ڈالا۔ انھوں نے پہلا قتل 15جنوری 1976 کو کیا اور دسواں قتل ۲۳ مارچ 1977 کو۔ اس کے بعد چاروں گرفتار ہوئے ان پر مقدمہ چلا جو سپریم کورٹ تک گیا۔ بالآخر ۲۵ اکتوبر ۱۹۸۳ کو انھیں یرواڈا سنٹرل جیل (پونہ) میں پھانسی دے دی گئی۔

اس واقعہ پر پونہ کے انگریزی اخبار مہاراشٹر ہیرالڈ (۲۵ اکتوبر ۱۹۸۳) نے مفصل با تصویر رپورٹ شائع کی ہے۔ اس میں ڈبلیو ۔ این۔ باپت (ایڈیشنل سیشن جج) کا فیصلہ بھی نقل کیا گیا ہے۔ موصوف کے سامنے مجرمین کی طرف سے جو وکالت کی گئی ، اس میں کہا گیا تھا کہ یہ مجرمین چوں کہ کم عمر اور نوجوان ہیں، اس لئے ان کو موت سے کم درجہ کی سزا دی جائے۔ جٹس موصوف نے اس کو رد کرتے ہوئے اپنے جواب میں لکھا:

In my opinion, there is really nothing redeeming about the youth of the accused who never saw any meadows but only graves, never saw any stars but saw only mud and learnt very little about life but which about death and murders. میرے نزدیک، ان مجرمین کی نوعمری اس قابل نہیں کہ انھیں چھوڑ دیا جائے ۔ ان نوجوانوں نے دنیا میں کبھی چراگاہ نہیں دیکھی بلکہ صرف قبرستان دیکھی۔ انھوں نے کبھی تارے نہیں دیکھے بلکہ صرف کیچڑ دیکھی۔ انھوں نے زندگی سے بہت کم سیکھا، انھوں نے جو سیکھا صرف موت اور قتل کے بارہ میں سیکھا۔ رحم دلی بہت اچھی چیز ہے لیکن جرائم فطرت لوگوں کے ساتھ رحم دلی کی جائے تو وہ ظلم بن جاتی ہے۔ اجتماعی زندگی کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ افراد کے اندر ایک دوسرے کے لئے احترام، حسن ظن، فیاضی، اعتراف اور حقوق پہچاننے کا مادہ ہو۔ جو لوگ جارحیت کی حد تک منفی ذہنیت کا شکار ہوں وہ اسی قابل ہیں کہ ان کے اور سماج کے درمیان مستقل جدائی کر دی جائے ۔ انھیں ان کے مقام عمل سے ہمیشہ کے لئے ہٹا دیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1984 All issues

Printed page