Al-Risala · June 1984 · page 26

سب سے زیادہ خطر ناک

الرسالہ، جون ۱۹۸۴، صفحہ ۲۶

اور باہمی اتحاد کو بھی جو اس دنیا میں کسی گروہ کی سب سے بڑی طاقت ہے (الانفال ۴۶) قرنِ اول کی مثال مشہور قول کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ۱۲ ربیع الاول ۱۱ ھ کو ہوئی۔ اس سے صرف دو ہفتہ پہلے کا واقعہ ہے کہ عین مرض الموت کی حالت میں آپ نے خصوصی اہتمام کے ساتھ مسلمانوں کی ایک فوج تیار کی۔ یہ رومیوں ( باز نطینیوں) سے مقابلہ کے لئے تھی۔ اس فوج میں آپ نے تمام بڑے بڑے صحابہ کو شامل کیا۔ ان کے اوپر اسامہ بن زید بن حارثہ کو سردار بنایا اور ان کو شام کی طرف روانہ کیا جہاں اس سے پہلے موتہ کے مقام پر رومیوں اور مسلمانوں میں جنگ ہوئی تھی۔ اسالہ اسامہ ایک غلام کے لڑکے تھے۔ تاہم وہ اس خاص مہم کی سرداری کے لئے موزوں ترین تھے۔ کیوں کہ اس سے پہلے غزوہ موتہ ( ۸ھ) میں رومیوں نے ان کے والد زید بن حارثہ کو قتل کیا تھا اور اس بنا پر بیٹے کے دل میں اپنے باپ کے قاتلوں سے لڑنے کے لئے آگ لگی ہوئی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسامہ بن زید اس مہم پر روانہ ہو گئے۔ وہ مدینہ سے ایک فرسخ دور جرف کے مقام پر ٹھہرے۔ یہاں لوگ آ آکر ان کے ساتھ ملنے لگے۔ کہا جاتا ہے کہ جرف وہی مقام ہے جہاں مدینہ کی موجودہ جامعہ اسلامیہ قائم ہے۔

اسامہ بن زید اور ان کا لشکر ابھی جرف ہی میں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر ملی۔ اس کو سن کر ان لوگوں نے اپنا سفر ملتوی کر دیا اور آپ کی تجہیز و تکفین میں شرکت کے لئے مدینہ واپس آ گئے۔

اب صحابہ کے اتفاق رائے سے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پہلے خلیفہ مقرر ہوئے۔ آپ کی خلافت کے بعد مسلمانوں کی عام رائے یہ تھی کہ اسامہ کے لشکر کو مدینہ میں روک لیا جائے۔ پیغمبر اسلام کی وفات اور عرب کے اکثر علاقوں میں منافقین کے بڑھتے ہوئے فتنے کی وجہ سے اس وقت ہر طرف غیر یقینی حالت چھائی ہوئی تھی۔ لوگوں کا عام خیال یہ تھا کہ پہلے مدینہ کی نئی اسلامی ریاست کو مضبوط بنایا جائے۔ اس کے بعد باہر کی کسی مہم پر نکلا جائے۔

مگر خلیفہ اول نے عمومی مخالفت کے باوجود اسامہ کے لشکر کی روانگی میں معمولی تاخیر بھی گوارا نہ کی۔ آپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم میں اس گرہ کو نہیں کھولوں گا جس کو اللہ کے رسول نے باندھا۔ خواہ چڑیاں ہم کو اچک لیں اور اطراف کے درندے ہم پر ٹوٹ پڑیں ۔ اور خواہ کتے امہات المومنین کے پیروں کو گھسیٹیں۔ میں ہر حال میں اسامہ کے لشکر کو روانہ کروں گا ( واللہ لا احل عقدة عقد ها

‹ Previous page Next page › Contents of June 1984 All issues

Printed page