Al-Risala · June 1984 · page 27

سب سے زیادہ خطر ناک

الرسالہ، جون ۱۹۸۴، صفحہ ۲۷

رسول اللہ ۔ ولوان الطیر تخطفتنا والسباع من حول المدینة۔ ولوان الكلاب جرت بارجل امهات المومنین لاجھےزن جیش اسامة)

خلیفہ اول نے اس معاملہ کی انتہائی اہمیت کو لوگوں پر واضح کرنے کے لئے مزید یہ کیا کہ جب لشکر اپنی منزل کی طرف روانہ ہوا تو آپ مدینہ سے جرف تک اس طرح گئے کہ نوجوان اسامہ گھوڑے پر سوار تھے اور خلیفہ اول ان کو نصیحت اور ہدایت دیتے ہوئے ان کے ساتھ پیدل چل رہے تھے۔ اسامہ کے اصرار کے باوجود وہ سواری پر نہیں بیٹھے (فشيع البعثة وهو ماش علی قدميه فقال اسامة یا خلیفة رسول الله، والله لترکبن أولا ننزل ۔ فقال والله لا تنزل والله لا أركب۔ وما علی ان اغبر قدمی فی سبیل الله ساعة)

پیغمبر اسلام اور خلیفہ اول کا یہ اقدام نہایت اہم مصلحت پر مبنی تھا۔ یہ مصلحت تھی _ مسلمانوں کے جذبہ جہاد کے لئے عرب کے باہر میدان عمل فراہم کرنا۔ " جہاد حقیقً خارجی دائرہ میں اسلام کی توسیع واشاعت کے لئے جد وجہد کا عنوان ہے۔ لیکن اگر خارجی نشانہ مسلمانوں سے اوجھل ہو جائے تو وہ داخلی لڑائی میں مصروف ہوجاتے ہیں اور اس کو جائز ثابت کرنے کے لئے غلط طور اس کو جہاد کا نام دے دیتے ہیں۔ خارجی نشانہ پیغمبر کی تحریک کے نتیجہ میں عرب کے لوگ جب اسلام لائے تو ان کے اندر زبر دست اسلامی جوش پیدا ہوگیا۔ انھوں نے چاہا کہ جس دین کو انھوں نے سب سے بڑی سچائی پا کر اختیار کیا ہے اس دین کو تمام لوگوں کا دین بنا دیں۔ اس جوش کو اپنے اظہار کے لئے کوئی وسیع میدان درکار تھا۔ اسامہ کے لشکر کی بر وقت روانگی کا مقصد مسلمانوں کے لئے یہی میدان کا فراہم کرنا تھا۔ پیغمبر اسلام نے رومیوں کی جارحیت کو فورا استعمال کیا اور اپنے آخر وقت میں ان کے ساتھ مڈبھیڑ کر کے یہ کیا کہ مسلمانوں کے جوش کو غیر مسلم اقوام میں اسلامی دعوت کی طرف موڑ دیا۔ اس طرح یہ ہو اکو جو طاقت داخلی لڑائیوں میں ضائع ہوتی وہ خارجی عمل میں استعمال ہونے لگی۔ اگر ایسا نہ کیا گیا ہوتا تو عرب کے مسلمان ایک دوسرے کی اصلاح کے نام پر آپس میں لڑنا شروع کر دیتے ۔ جیسا کہ آج کل ہم تمام مسلم ملکوں میں دیکھ رہے ہیں۔ پیغمبر اسلام اگر عین وقت پر مسلمانوں کے جذبہ عمل کو خارج کی طرف نہ موڑتے تو اس کے بعد ان کے درمیان جو داخلی لڑائیاں شروع ہو تیں ان کا انجام صرف یہ نکلتا کہ اسلام کی تاریخ جہاں بننا شروع ہوئی تھی وہیں وہ بننے سے پہلے ختم ہو جاتی ۔ تا تاریخ آج جن شاندار اسلامی کرداروں کے تذکرے سے بھری ہوئی ہے وہ ان کے مرثیہ سے زیادہ اور کچھ نہ ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ اعلیٰ مقصد میں مشغول ہو نا اعلیٰ کردار

‹ Previous page Next page › Contents of June 1984 All issues

Printed page