Al-Risala · June 1984 · page 28

سب سے زیادہ خطر ناک

الرسالہ، جون ۱۹۸۴، صفحہ ۲۸

کی سب سے بڑی ضمانت ہے، اور دعوت الی اللہ کے محاذ سے ہٹنے کے بعد مسلمان یہی اعلیٰ ترین چیز کھو دیتے ہیں۔ خلیفہ اول کے زمانہ میں اس عمل کا رخ پہلے رومیوں کی طرف پھیر اگیا تھا۔ جلد ہی بعد فارسیوں (ساسانیوں) کی جارحیت کی بنا پر فارس سے بھی مسلمانوں کا مقابلہ شروع ہو گیا۔ اس طرح مسلمانوں کے لئے اسلامی عمل کا اتنا وسیع میدان ہاتھ آ گیا جو ایشیا سے لے کر افریقہ اور یورپ تک چلا گیا ۔ کیوں کہ اس زمانہ میں یہی دونوں سلطنتیں روم اور فارس، دنیا کے اکثر آباد حصہ پر چھائی ہوئی تھیں۔ رومیوں اور ایرانیوں کی طرف مسلمانوں کا یہ اقدام حقیقتاً کسی سیاسی مقصد یا ملکی توسیع کے لئے نہ تھا، بلکہ تمام تر اسلامی دعوت کے لئے تھا۔ یہ مسلمان اس ربانی جذبہ سے سرشار ہو کر اپنی سرحدوں سے نکلے تھے کہ اللہ کے بندوں کو انسان کی عبادت سے نکال کر خدا کی عبادت کے دائرہ میں لے آئیں (لتحراج عباد اللہ من عبادۃ العباد الی عبادۃ اللہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ روم اور فارس مسلمانوں کے لئے اصلاً دعوت حق کا موضوع تھے۔ مگر ان قوموں کی طرف سے جارحیت کی بنا پر ان کے درمیان نوبت آگئی۔ ورنہ جن قوموں نے جنگ نہیں کی ان کے درمیان اسلام کسی لڑائی بھڑائی کے بغیر پھیلتا رہا۔ مثلاً حبش، مالدیپ، ملیشیا، انڈونیشیا وغیرہ قدیم غیر مسلم اقوام تک اسلام کی توسیع و اشاعت کا عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے فوراً بعد شروع ہوا۔ تقریباً ۳۰ سال تک وہ پوری کامیابی کے ساتھ جاری رہا۔ اس پوری مدت میں مسلمان متحد اور متفق ہو کر دوسری قوموں میں اسلام کی اشاعت کرتے رہے۔ اسی کا ایک نتیجہ وہ عظیم مسلم جغرافیہ ہے جس کو آج عرب دنیا کہا جاتا ہے۔

عام الجماعت (اتحاد کا سال)

خلیفہ ثالث عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے آخری زمانہ میں یہ تسلسل ٹوٹتا ہے۔ مسلمانوں نے " داخلی جہاد " کے جوش میں اپنے عمل کا رخ باہر سے اندر کی طرف موڑ دیا۔ اصلاح سیاست کے نام پر وہ خود اپنے حکمرانوں سے لڑنے لگے۔ یہ باہمی ٹکراؤ یہاں تک بڑھا کہ مسلمانوں میں سے ایک طبقہ نے اپنے خلیفہ کو قتل کر ڈالا۔

تاہم خلیفہ کے قتل پر بھی سلسلہ ختم نہ ہوا۔ اب خون عثمان کے قصاص کے نام پر مسلمانوں میں دو گروہ بن گئے۔ اس طرح آپس میں ایسی لڑائیاں شروع ہوئیں جو مسلسل دس سال تک نہایت خوں ریز جنگ کی شکل میں جاری رہیں۔ اسلام کی عمومی دعوت کے محاذ سے ہٹنے کا یہ نتیجہ ہوا کہ ایک طرف اسلام کی توسیع و اشاعت کا کام بالکل رک گیا اور دوسری طرف مسلمانوں کی طاقت خود مسلمانوں کے خلاف استعمال ہونے لگی۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1984 All issues

Printed page