Al-Risala · June 1984 · page 29

سب سے زیادہ خطر ناک

الرسالہ، جون ۱۹۸۴، صفحہ ۲۹

جو مسلمان اسلام کے مقصد کے لئے باہم جڑے ہوئے تھے وہ خود اسلام کے نام پر مختلف اور منتشر ہو کر رہ گئے تقریباً دس سال کے اختلاف اور انتشار کے بعد مسلمان دوبارہ 41ھ میں متحد ہوئے۔ اس بنا پر اس سال کو اسلامی تاریخ میں عام الجماعت (اتحاد کا سال) کہا جاتا ہے۔ مسلمانوں میں دوبارہ اتحاد کا یہ واقعہ حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے ذریعے پیش آیا جن کی بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی کی تھی کہ اللہ ان کے ذریعے سے مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا (ان ابنی ھٰذا سید ولعل اللہ ان يصلح به بين فئتين عظيمتين من المسلمين، رواہ البخاری)

حضرت حسن اپنے والد کے بعد اسلام کے پانچویں خلیفہ مقرر ہوئے تھے۔ مگر انھوں نے دیکھا کہ خلافت کا مسئلہ مسلمانوں کے لئے باہمی جنگ کا سبب بن گیا ہے۔ چنانچہ وہ مسلمانوں کے اختلاف کو ختم کرنے کے لئے یک طرفہ طور پر اپنے حق سے دست بردار ہو گئے۔

اس وقت صورت حال یہ تھی کہ مسلمان دو متارب گروہوں میں بٹے ہوئے تھے۔ ایک کے سردار حضرت حسن تھے اور دوسرے کے سردار حضرت معاویہ۔ حضرت حسن نے حب خلافت کے حق سے دست بردار ہو کر داخلی محاذ کو بند کیا تو اس کے بعد بالکل فطری طور پر یہ ہوا کہ مسلمانوں کی سرگرمیوں کا رخ دوبارہ اسلام کی توسیع و اشاعت کی طرف مڑ گیا۔ اسلام کا بڑھتا ہوا قافلہ جو دس سال سے رکا ہوا تھا، وہ دوبارہ خدا کے دین کی عمومی اشاعت کے میدان میں سرگرم ہو گیا۔ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ۲۰ سالوں ( (40-60ھ) میں اسلام کی اشاعت اتنے بڑے پیمانے پر ہوئی جس کی مثال بعد کی صدیوں میں نہیں ملتی۔ ان کے زمانہ میں اسلام کا قافلہ ایک طرف سمر قند، دوسری طرف افغانستان اور تیسری طرف تیونس تک پہنچ گیا۔ چوتھی طرف مسلمان آبنائے باسفورس کو پار کر کے جزیرہ روڈس پر قابض ہو گئے جو گویا قسطنطنیہ میں داخلہ کا پہلا زینہ تھا۔ اس طرح ان کے عہد خلافت میں مشرق و مغرب اور شمال و جنوب ہر طرف اسلام کی توسیع ہوئی۔ اسلام کا قافلہ خشکی سے گذر کر سمندروں میں سفر کرنے لگا۔ ایک تاریخی سبق معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت پر کچھ لوگوں نے اعتراضات کئے ہیں۔ حتیٰ کہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ معاویہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے اسلام کے اندر ملوکیت کی بنیاد رکھی۔ مگر اس سے قطع نظر، معاویہ رضی اللہ عنہ کے ۲۰ سالہ خلافت کی تاریخ ایک بہت بڑا سبق دیتی ہے۔ وہ سبق یہ ہے مسلمانوں کو اگر کسی طرح باہمی لڑائی سے ہٹایا جاسکے ، خواہ یہ سیاسی ادارہ میں ملوکیت کو برداشت

‹ Previous page Next page › Contents of June 1984 All issues

Printed page