سب سے زیادہ خطر ناک
الرسالہ، جون ۱۹۸۴، صفحہ ۳۰
کرنے کی قیمت پر کیوں نہ ہو، تو اسلام کے حق میں اس کا نتیجہ نہایت مفید شکل میں نکلتا ہے۔ باہمی لڑائی کی صورت میں یہ ہوتا ہے کہ افراد کا جوش اسلامی آپس کی تخریب پر صرف ہونے لگتا ہے۔ لیکن اگر مسلمانوں کو باہمی لڑائی کے محاذ سے ہٹا دیا جائے تو ان کا جوش عمل اسلام کی توسیع و اشاعت کے میدان میں اپنا نکاس ڈھونڈ لے گا۔
مسلمانوں کا دو گروہ بن کر آپس میں لڑنا سراسر حرام ہے۔ تا ہم جب مسلمانوں کو باہمی لڑائی سے بچایا جاتا ہے تو صرف اتنا ہی نہیں ہوتا کہ وہ ایک فعل حرام کے ارتکاب سے بچ جاتے ہیں۔ بلکہ اس کا ایک مثبت فائدہ بھی اپنے آپ حاصل ہوتا ہے۔ مسلمانوں کا جوش اسلامی اس کے بعد کا نہیں رہتا بلکہ وہ اپنے اظہار کے لئے دوسرا میدان اسلام کی توسیع و اشاعت کا میدان تلاش کر لیتا ہے۔ اس طرح یہ ہوتا ہے کہ جو قوت باہمی تخریب میں ضائع ہوتی وہ اسلام کی ترقی اور استحکام میں استعمال ہونے لگتی ہے۔ مزید یہ کہ وہ مدعا بھی اسی سے اپنے آپ حاصل ہو جاتا ہے جس کے لئے وہ ایک دوسرے کے خلاف لڑ رہے تھے۔ یعنی مسلمانوں کی اصلاح اور ان میں اعلیٰ اسلامی صفات کا پیدا ہونا۔
مسلمانوں کا جوش جہاد اگر اسی طرح خارج کی طرف عمل کرتا رہتا جس طرح وہ ابتدائی زمانہ میں عمل کر رہا تھا تو آج دنیا کی تاریخ دوسری ہوتی جس طرح عرب ملکوں کی تاریخ ہمیشہ کے لئے دوسری ہو چکی ہے۔ دعوت کے ذریعہ اتحاد دعوت الی اللہ یا تبلیغ اسلام ہی امت مسلمہ کا منصبی مشن ہے۔ اس مشن سے مراد اصلاً یہ ہے کہ خدا کے دین کو غیر مسلم اقوام تک پہنچایا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو جو مستقل مشن دیا ہے وہ یہی مشن ہے جس کا دوسرا نام شہادت علی الناس ہے (الحج ۷۸)، ختم نبوت کے بعد مسلمان مقام نبوت پر ہیں۔ اب مسلمانوں کو دعوت الی اللہ کا وہ کام انجام دینا ہے جس کے لئے اس سے پہلے رسول آیا کرتے تھے۔ یہ کل جو امت مسلمہ کا اصل مشن ہے، اسی کی ادائیگی سے خدا کی نصرت ان کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور اسی سے امت کے اندر وہ اہم ترین چیز پیدا ہوتی ہے جس کا نام اتحاد اور اتفاق ہے۔ دعوت غیر مسلموں میں اسلام کی اشاعت، ایک ایسا کام ہے جو آدمی کے لئے خارج میں عمل کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ اپنے علی حوصلہ کی تکمیل کے لئے وہ اندر کے بجائے باہر کا میدان کھولتا ہے۔ اس طرح لوگوں کو اپنے جذبہ جہاد یا جوش اسلامی کے استعمال کے لئے اپنی صفوں سے باہر کی دنیا میں نشانہ مل جاتا ہے۔ لوگ داخلی مقابلہ آرائی سے ہٹ کر خارج میں اسلام کی توسیع و اشاعت میں لگ جاتے ہیں۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا ، اسلام کی تاریخ اس کا زبر دست ثبوت فراہم کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ
‹ Previous page Next page › Contents of June 1984 All issues