Al-Risala · June 1984 · page 31

سب سے زیادہ خطر ناک

الرسالہ، جون ۱۹۸۴، صفحہ ۳۱

علیہ وسلم کی وفات کے بعد ۳۰ سال تک مسلمان خارجی میدان میں اسلام کی توسیع و اشاعت میں مصروف تھے تو ان کی اندرونی صفوں میں مکمل اتحاد قائم رہا۔ حضرت عثمان کے آخری زمانہ میں ”داخلی جہاد“ کا آغاز ہوا تو اس قدر باہمی لڑائیاں پیش آئیں کہ دس سال تک کے لئے اسلام کی توسیع کا عمل رک گیا۔ یہ عمل دوبارہ اس وقت شروع ہوا جب حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی خلافت سے دست برداری کے نتیجہ میں داخلی مقابلہ آرائی ختم ہوئی۔ اب دوبارہ ۲۰ سال تک مسلسل اسلام کی توسیع ہوتی رہی۔ امیر معاویہ کی وفات (۶۰ ھ) کے بعد بنو امیہ اور بنو ہاشم میں ”اصلاح سیاست“ کے عنوان پر ٹکراؤ شروع ہوا تو دوبارہ اسلام کی توسیع کا کام رک گیا جو پھر کبھی پرلے کی طرح جاری نہ ہوسکا۔ اسلام کی تووسیع اور اس کی اشاعت عام کو چھوڑنے کی قیمت مسلمانوں کو یہ دینی پڑ رہی ہے کہ پچھلے ہزار سال سے ان کی طاقتیں آپس کے ٹکراؤ اور اختلاف میں ضائع ہو رہی ہیں، وہ کسی طرح ختم ہونے میں نہیں آتیں۔ یہ داخلی ٹکراؤ اگرچہ بظاہر اسلام کے نام پر ہو رہا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ خدا کی دنیا میں اس سے زیادہ غیر اسلامی کام اور کوئی نہیں۔

۲۔ دعوت الی اللہ اصلاً اس اسلامی کام کا عنوان ہے جو غیر مسلموں تک خدا کا پیغام پہنچانے کے لئے انجام دیا جاتا ہے (مسلمانوں کے درمیان کام کا اصطلاحی نام اصلاح ہے، انجرات ۱۰) جب آپ غیر مسلم کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کر رہے ہوں تو ایسا نہیں ہو گا کہ آپ اس کے سامنے آمین بالسر یا آمین بالجہر کے مسائل بیان کریں۔ یا ان دوسرے فروعی مسائل کو چھیڑیں جن کے بارہ میں مسلم فرقوں کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ایسے مواقع پر ہر مسلمان یہ کرے گا کہ وہ مخاطب کے سامنے توحید، رسالت، آخرت اور مساوات انسانی جیسی بنیادی تعلیمات پیش کرے گا۔ گویا اسلام کی عمومی دعوت کا کام ایک ایسا کام ہے جو بالکل فطری طور پر بنیادی تعلیمات دین کو بحث و گفتگو کا موضوع بنا دیتا ہے۔

یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ دین کی بنیادی تعلیمات میں کوئی اختلاف نہیں۔ وہ سب کی متفق علیہ ہیں۔ اس کے برعکس دین کے فروعی (فقہی) احکام میں کافی اختلافات ہیں. اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ جب دعوتی اسلام لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتا ہے تو لازمی طور پر اسلام کے بنیادی پہلو، بالفاظ دیگر متفق علیہ پہلو زیادہ سے زیادہ زیر بحث آتے ہیں۔ اور اس کے فروعی، دوسرے لفظوں میں اختلافی پہلو پس پردہ چلے جاتے ہیں۔

اس طرح قدرتی طور پہ ایسا ہوتا ہے کہ ملت جب دعوتی عمل میں مصروف ہو تو اس کے

‹ Previous page Next page › Contents of June 1984 All issues

Printed page