Al-Risala · June 1984 · page 46

افراد کار کی فراہمی

الرسالہ، جون ۱۹۸۴، صفحہ ۴۶

مستخفين حتی اجتمعنا في الشعب عند العقبة ونحن ثلاثۃ وسبعون رجلا و معنا امراتان من نسائنا ۴۹ قال ابن اسحاق وحدثنی عاصم بن عمر بن قتادة ان القوم لما اجتمعوا لبيعة رسول الله صلی الله عليه وسلم قال العباس بن عبادة بن نضلة الانصاري يا معشر الخزرج هل تدرون علا م تبايعونہ هذا الرجل قالوا نعم قال انكم تبايعون علی حرب الاحمر والاسود من الناس فان كنتم ترون انكم اذا نهكت اموالكم مصيبة واشرافكم قتل اسلمتموه فمن الآن فهو والله ان فعلتم. خزى الدنيا والآخرة وان كنتم ترون انكم وافون له بمادعوتموه اليه علی مصيبة الاموال وقتل الاشراف فخذ وه فهو والله خير الدنيا والآخرة قالوا فانا ناخذه علی مصيبة الاموال وقتل الاشراف فما لنابذلك يا رسول الله ! ان نحن و فينا قال الجنة قالوا ابسط يدك فبسط يده. فبايعوه (۵۵)

سیرۃ النبی لابی محمد عبدالملک بن هشام الجز الثانی ۔ ۔

اسی قسم کے با شعور اور با ہمت اصحاب تھے جنہوں نے تاریخ میں شرک کے تسلسل کو ختم کیا اور انسانی تاریخ کے رخ کو بدل دیا۔ آج دوبارہ تاریخ کو وہی حرکت دینے کی ضرورت ہے جو ہمارے اسلاف نے اپنے زمانہ میں دیا تھا۔ انہوں نے شرک کا دور ختم کر کے توحید کا دور شروع کیا۔ اب ہم کو الحاد کا دور ختم کر کے دوبارہ توحید کا دور انسانی تاریخ میں لانا ہے۔ یہ ایک بہت اعلیٰ کام ہے۔ اور اس کے لئے اعلیٰ افراد انتہائی طور پر ضروری ہیں۔ ضرورت ہے کہ ایک ایسا ادارہ قائم کیا جائے جہاں تعلیم و تربیت کے ذریعہ ایسے افراد تیار کئے جائیں۔ ڈاکٹر فلپ ۔ کے کہی کے الفاظ میں ، آج اسلام کو دوبارہ ایک ہیروئوں کی نرسری (Nursery of heroes) درکار ہے۔ اس کے بغیر یہ اہم کام انجام نہیں پاسکتا۔ مذکورہ درس گاہ گویا اسی قسم کی ایک نرسری ہوگی جہاں دعوت اسلامی کے ہیرو تیار کئے جائیں۔ دعوتی مرکز کا قیام او پر میں نے ڈاکٹر نشی کانت چٹوپادھیا( اسلامی نام محمد عزیز الدین) کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ۱۹۰۴ء کے لکچر میں قدیم حیدر آباد میں کہا تھا :

I feel sure, that if a comprehensive Islamic mission were started in Hyderabad (India) to preach the simple and sublime truths of Islam to the people of Europe, America and Japan, there would be such rapid and enormous accession to its ranks as has not been witnessed again ever since the first centuries of the Hejira. Will you, therefore, organise a grand central Islamic Mission here in Hyderabad and open branches in Europe, America and in Japan? Why have I Accepted Islam, Dr Nishikanta Chattopadhya.

‹ Previous page Next page › Contents of June 1984 All issues

Printed page