Al-Risala · July 1984 · page 2

خرابی کی جڑ

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۴، صفحہ ۲

خرابی کی جڑ

ہر آدمی حق کا نام لیتا ہے، اس کے باوجود دنیا میں ہر طرف بگاڑ کیوں ہے۔ اس کی وجہ قرآن کے لفظوں میں الحاد (انحراف) ہے، یعنی بات کو صحیح رخ سے غلط رخ کی طرف موڑ دینا۔ الحاد کی ایک صورت جو موجودہ زمانہ میں بہت زیادہ رائج ہے، وہ ہے۔ انفرادی حکم کا رخ اجتماعیات کی طرف کر دینا۔ جس حکم کا خطاب آدمی کی اپنی ذات سے ہے اس کا مخاطب دوسروں کو بنا دینا۔ مثلاً قرآن میں ہے کہ و ربك فكبر و ثيابك فطھر (اپنے رب کی بڑائی کر اور اپنے اخلاق کو پاک کر) اس آیت میں اگر و ثيابك تطهر کو وثياب غيرك تطهر (اور دوسروں کے اخلاق کو پاک کر) کے معنی میں لے لیا جائے تو سارا معاملہ الٹ جائے گا۔ جو آیت ذاتی اصلاح کا سبق دے رہی ہے وہ صرف دوسروں کے خلاف اکھاڑ پچھاڑ کے ہم معنی بن کر رہ جائے گی۔

اسی طرح تمام احکام کا حال ہے۔ ہر حکم جو خدا کی طرف سے دیا گیا ہے اس کا سب سے پہلا خطاب آدمی کی اپنی ذات سے ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے انقلابی دین داروں نے تمام احکام کا رخ دوسروں کی طرف کر رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دین و مذہب کے نام پر بے شمار ہنگاموں کے باوجود کوئی اصلاح نہیں ہوتی۔

ہر قسم کی اصلاح اور ہر قسم کے بگاڑ کا خلاصہ دو لفظوں میں یہ ہے:

۱۔ خدا بڑا ہے، اس لئے میں بڑا نہیں ہوں۔

۲۔ خدا بڑا ہے، اس لئے تم بڑے نہیں ہو ۔

پہلا جملہ "اللہ اکبر" کے کلمہ کو صحیح رخ سے لینا ہے۔ اور دوسرا جملہ "اللہ اکبر" کے کلمہ کو غلط رخ سے اختیار کرنا ہے۔ اگر آپ کہیں کہ " خدا بڑا ہے اس لئے میں بڑا نہیں ہوں"، تو آپ کے اندر اپنی ذات کے بارہ میں ذمہ داری کا احساس جاگے گا۔ آپ کے اندر سے گھمنڈ نکلے گا اور سنجیدگی اور ذاتی اصلاح کا جذبہ پیدا ہوگا۔ آپ کے اندر تواضع ابھرے گی جو تمام بھلائیوں کی جڑ ہے۔

اس کے برعکس جب آپ کا نعرہ یہ ہو کہ " خدا بڑا ہے اس لئے تم بڑے نہیں ہو"، تو اس سے گھمنڈ کی نفسیات پیدا ہوتی ہے اور توڑ پھوڑ اور دوسروں کے خلاف اکھیڑ پچھاڑ کی سیاست ابھرتی ہے۔ اصلاح کے نام پر ایسا فساد ظہور میں آتا ہے جو کسی حد پر رکنے والا نہ ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1984 All issues

Printed page