خرابی کی جڑ
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۴، صفحہ ۳
زندہ لوگ قرآن کی سورہ نمبر ۱۶ میں ارشاد ہوا ہے :
ان اللہ یامر بالعدل والاحسان وايتاء اللہ حکم دیتا ہے انصاف کا اور بھلائی کا اور قرابت ذی القربی وينهی عن الفحشاء والمنکر والبغی داروں کو دینے کا اور وہ روکتا ہے بے حیائی سے اور يعظكم لعلکم تذكرون (النحل ۹۰) نا معقول کام سے اور سرکشی سے ۔ وہ تم کو نصیحت کرتا ہے تا کہ تم یا د رکھو ۔
اکثم بن صفی ایک عرب تھے ۔ انھوں نے اس آیت کو سنا تو اس نے انھیں بے حد متاثر کیا۔ چنانچہ وہ اپنی قوم کے پاس گئے اور اس سے کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ یہ پیغمبر تمام اچھے اور اعلیٰ اخلاق کا حکم دیتا ہے اور کمینہ اخلاق اور اعمال سے روکتا ہے۔ تو تم اس کو ماننے میں جلدی کرو۔ تم اس معاملے میں سر بنو اور تم اس میں نہ بنو( (فكونوا في هذا الأمر رؤساء ولا تكونوا فيه أذنابا)
جب آدمی کی فطرت زندہ ہو ، جب وہ کسی نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا نہ ہو تو اس کا حال وہی ہوتا ہے جو او پر کے واقعہ میں نظر آتا ہے۔ وہ حق کو فوراً پہچان لیتا ہے اور اس کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ وہ چاہنے لگتا ہے کہ وہ اور اس کے تمام لوگ اس کے دائرہ میں شامل ہو جائیں۔ اس کے برعکس جب آدمی نے اپنی فطرت مسخ کر لی ہو۔ جب اس کی نفسیات میں حسد اور کبر کی گر ہیں پڑگئی ہوں تو اس کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ سچائی اس کے سامنے آتی ہے مگر وہ اسے پہچان نہیں پاتا۔ وہ ذاتی جذبات سے مغلوب ہو کر اس کا انکار کر دیتا ہے۔ وہ اس وقت تک نہیں مانتا جب تک کہ حالات اس کو ماننے پر مجبور نہ کر دیں۔
حق کا ظہور آدمیوں کے لئے سخت ترین امتحان ہوتا ہے۔ حق سامنے آنے کے بعد آدمی کے اندر دو ۔ قسم کی نفسیات جاگتی ہیں۔ ایک حسد کی نفسیات اور دوسری اعتراف کی نفسیات۔ حسد کا مطلب یہ ہے کہ آدمی یہ دیکھ کر جل اٹھے کہ حق کے اعلان کا کریڈٹ اس کو نہیں ملا بلکہ دوسرے کو مل گیا۔ اعتراف کا مطلب یہ ہے کہ آدمی حق کی لذت میں اتنا گم ہو کہ اس کو اپنے اور غیر کا فرق یاد نہ رہے۔ وہ حق کو پا کر فوراً اس کی طرف دوڑ پڑے۔ حاسد آدمی صرف پیش کرنے والے شخص کو دیکھتا ہے اور اعتراف کرنے والا اس پیغام کو جو پیش کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دعوت حق کے مقابلہ میں ایک کا رویہ کچھ ہوتا ہے اور دوسرے کا رویہ کچھ ۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1984 All issues