Al-Risala · July 1984 · page 4

درست کلام

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۴، صفحہ ۴

درست کلام

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطرافِ عرب کے حکمرانوں کو دعوتی خطوط روانہ فرمائے تھے۔ یہ واقعہ ہجرت کے ساتویں سال پیش آیا۔ اس سلسلے میں حضرت دحیہ کلبی آپ کا مکتوب لے کر قیصر روم کی طرف گئے۔ قیصر روم اس وقت بیت المقدس میں تھا۔ اس نے جب آپ کا مکتوب پڑھا تو حکم دیا کہ عرب کے کچھ لوگ ہمارے ملک میں ہوں تو وہ یہاں حاضر کئے جائیں۔ اتفاق سے ابوسفیان اس زمانہ میں تجارت کی غرض سے اس اطراف میں گئے ہوئے تھے۔ چنانچہ وہ بلا کر دربار میں لائے گئے۔ قیصر روم نے رسول اللہ صلی اللہ کی شخصیت اور آپ کی تعلیمات کے بارہ میں بہت سے سوالات کئے جن کے جواب ابوسفیان نے دئے۔ یہ مفصل سوال و جواب سیرت کی کتابوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ان میں سے ایک سوال یہ تھا کہ ” جنھوں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے وہ عہد کی خلاف ورزی بھی کرتے ہیں ؟ “ اس کے جواب میں ابوسفیان نے کہا کہ نہیں۔ آج تک انھوں نے عہد کر کے نہیں توڑا۔ مگر آج کل ہمارے اور ان کے درمیان ایک مدت صلح ٹھہری ہے۔ نہیں معلوم کہ اس میں وہ کیا کرتے ہیں ؟

ابوسفیان کہتے ہیں کہ اس ایک بات کے سوا مجھے کوئی اور بات لگانے کا موقع نہیں ملا۔ مگر ابن اسحاق کی روایت کے مطابق، خدا کی قسم قیصر نے میری اس بات کی طرف کوئی توجہ نہیں کی ( فواللہ ما التفت الیها منی (سیرت ابن کثیر جلد ۳ صفحہ ۴۹۷ )

قیصر نے کیوں توجہ نہیں کی۔ اس کی وجہ تھی کہ وہ بات قابل توجہ نہیں تھی۔ ابوسفیان آپ کے ماضی اور حال کے بارہ میں کوئی بات نہ نکال سکے۔ البتہ انھوں نے مستقبل کے بارہ میں ایک بات کہہ دی۔ ظاہر ہے کہ مستقبل وہ چیز ہے جو ابھی پیش نہیں آیا۔

اگر آدمی کے پاس کوئی بڑی بات کہنے کے لئے نہیں ہے تو لازم ہے کہ وہ چھوٹی بات بھی نہ کہے۔ اگر کوئی حقیقی اعتراض نہیں ہے تو فرضی اعتراض بھی نہ نکا لے۔ اگر وہ قطعی دلائل سے کچھ کہنے کو نہیں پاتا تو کمزور دلائل سے بھی کچھ کہنے سے پر ہیز کرے۔ اگر وہ کسی کے حال میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں پاتا تو مستقبل کی بنیاد پر اس کو مطعون نہ کرے۔

جن لوگوں کا حال یہ ہو کہ ایک شخص کو رد کرنے کے لئے ان کے پاس طاقت وردلیل موجود نہ ہو اس کے باوجود وہ بے بنیاد شوشے نکال کر اس کو مطعون کریں وہ اس طرح صرف اپنے کمینہ پن کا ثبوت دیتے ہیں۔ حقیقت کی نگاہ میں ان کی کوئی قیمت نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1984 All issues

Printed page