ایک فرق
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۴، صفحہ ۱۲
ایک فرق
نیوڈائجسٹ (ہانگ کانگ) نے ایک دلچسپ گفتگو نقل ہے۔ ایک اسرائیلی نے دوسرے اسرائیلی سے پوچھا :
When Moses led the people out of bondage, why did he have to take them to the only place in West Asia that does not have oil. جب حضرت موسیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون کی قید سے چھڑایا تو کیوں ایسا ہوا لے کر وہ ان کو مغربی ایشیا کے اس واحد مقام پر لے گئے جہاں تیل نہیں تھا۔ دوسرے اسرائیلی نے اس سوال کو سنا تو مسکرا کر خاموش ہوگیا۔ حضرت موسیٰ نے بنی اسرائیل کو مصر سے نکالا تو اولاً وہ ان کو صحرائے سینا میں لے گئے۔ اس کے بعد باقاعدہ منصوبہ کے تحت ان کو فلسطین پہنچایا گیا۔ فلسطین قدیم زمانہ میں نہایت سر سبز و شاداب زراعتی ملک تھا۔ مگر اس کی زمین کے نیچے تیل نہیں پایا جاتا۔ مغربی ایشیا کے ہر ملک میں تیل ہے۔ مگر فلسطین کی زمین کے نیچے تیل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین آج ایک غیر خود کفیل ملک ہے۔ اگر اس کو باہر سے امداد نہ ملے تو موجود ہ صنعتی دور میں وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔
پھر یہ عجیب بات ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم عرب میں ظاہر ہوئے جو اس زمانہ میں بالکل ریگستان تھا۔ اس وقت وہاں کے لوگ شام اور فلسطین کی سرسبزی پر رشک کرتے تھے۔ مگر موجودہ زمانہ میں صورت حال بالکل بدل گئی ہے۔ عرب کے صحرا جو پانی کے قحط میں مبتلا تھے، وہاں تیل کے دریا بہہ رہے ہیں جو جدید صنعتی دور میں ہر دوسری چیز کا بدل ہے۔
عربوں کی دولت مندی آج لوگوں کے لئے قابل رشک بن گئی ہے۔ فلسطین کی قومی آمدنی اپنی ضرورت سے بہت کم ہے اور عرب کی قومی آمدنی اپنی ضرورت سے بہت زیادہ۔
اس واقعہ میں غالباً ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ حضرت موسیٰ کا زمانہ نبوت زراعت کے دور تک تھا۔ جب کہ حضرت محمد کا زمانہ نبوت صنعت کے دور تک پھیلا ہوا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام "حال" کے پیغمبر تھے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم حال سے کہ مستقبل تک کے پیغمبر۔ خط و کتابت کے وقت خریداری نمبر یا ایجنسی نمبر کا حوالہ ضرور دیں۔ منی آرڈر کوپن پر اپنا پورا پتہ لکھیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1984 All issues