ردِ عمل کے بغیر
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۴، صفحہ ۱۴
ردِ عمل کے بغیر
ایک ہندی کہاوت ہے جوٹ ہے جو شبد کی وائے گرو میں داس۔ یعنی جو شخص لفظ کی چوٹ سہ سکے وہ اس قابل ہے کہ اس کو پیشوائی کا درجہ دیا جائے اور دوسرے لوگ اس کے خادم بن کر رہیں. لفظ کو سن کر بظاہر نہ کسی کا خون بہتا اور نہ کسی کا ہاتھ پاؤں ٹوٹتا۔ مگر لفظ کی چوٹ کو برداشت کرنا بلاشبہ کسی آدمی کے لئے مشکل ترین کام ہے۔ لفظ کی چوٹ وہی شخص برداشت کر سکتا ہے جس کے اندر گہرائی ہو۔ جو ظاہری سطح سے اوپر اٹھ کر چیزوں کو دیکھ سکے۔
مسٹر کرشنا مورتی (عمر ۹۰ سال)، ہندوستان کے مشہور مفکر ہیں۔ وہ نہایت عمدہ انگریزی بولتے ہیں۔ چنانچہ ان کی تقریروں میں انگریزی داں طبقہ ہزاروں کی تعداد میں شریک ہوتا ہے۔ ہندوستان کے علاوہ مغربی ملکوں میں بھی ان کی تقریریں دل چسپی سے سنی جاتی ہیں۔
تاہم کرشنا مورتی کو یہ شکایت ہے کہ کوئی اُن کے خیالات کو عملی طور پر نہیں اپناتا۔ مدراس کی ایک تقریر میں انھوں نے کہا کہ ۵۰ سال سے میں دنیا بھر میں سفر کر کے اپنے خیالات پیش کر رہا ہوں مگر لوگوں کے اندر کوئی عملی حرکت پیدا نہیں ہوتی۔ "کیا آپ لوگ اپنے آپ کو بدل لیں گے"، انھوں نے مجمع سے سوال کیا، پھر خود ہی جواب دیا " آپ لوگ میری باتیں سن کر واپس چلے جائیں گے اور بدستور ویسا ہی کرتے رہیں گے جیسا اب تک کر رہے تھے؟
یہ سن کر مجمع سے ایک شخص اٹھا اور سخت غصہ میں کہا، "ہر سال آپ یہی کہتے ہیں کہ ہم آپ کا ساتھ نہیں دیتے ۔ پھر کس لئے آپ ہم کو اپنی بات سناتے رہتے ہیں"، اس کے جواب میں مسٹر کرشنا مورتی نے نہایت نرمی کے ساتھ کہا:
Sir. have you ever asked a rose why does it bloom? جناب، کیا آپ نے کبھی گلاب سے پوچھا ہے کہ وہ کیوں کھلتا ہے ( ہندوستان ٹائمز ۲۴ فروری ۱۹۸۴) تنقیدی بات سن کر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی بھر اٹھتا ہے۔ مگر ایسے موقع پر پھر ناخود اپناہی نقصان کرتا ہے۔ اگر آپ مخاطب کی تنقید سن کر غصہ ہو جائیں تو آپ صرف تیز و تند الفاظ بولیں گے۔ لیکن اگر ایسے موقع پر آپ اپنے جذبات کو سنبھال لیں تو آپ ایسی بات کہہ سکتے ہیں جو دل میں اتر جائے اور مخاطب کو خاموش کر دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1984 All issues