ردِ عمل کے بغیر
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۴، صفحہ ۱۵
عبرت ناک
عالمی ادارہ صحت کی طرف سے ایک ماہنامہ نکلتا ہے جس کا نام و پتہ یہ ہے :
World Health, WHO, Av. Appia, 1211 Geneva 27, Switzerland اس ماہنامہ (ورلڈ ہیلتھ) کے شمارہ اکتوبر ۱۹۸۳ میں ایک رپورٹ ان الفاظ میں درج ہے : Eight years ago, 197 people became ill on a long-distance flight. Ham omelettes had been contaminated by a cook with an infected sore on his hand, and poor temperature control in the kitchen and on board the plane had allowed the organism (Staphylococcus aureus) to grow in the food and produce a toxin. The infection sent 144 of the victims to hospital, though all eventually recovered. Nontheless the airline catering manager took the balme for the incident and committed suicide. آٹھ سال پہلے کا واقعہ ہے ، ۱۹۷ مسافر ایک ہوائی جہاز کے لمبے سفر میں بیمار پڑ گئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کو سفر کے دوران جو آملیٹ کھانے کے لئے دیا گیا وہ باورچی کے ہاتھ میں ایک زخم کی وجہ سے متاثر ہو گیا تھا۔ اس کے بعد جہاز میں جب اس کو رکھا گیا تو ٹمپریچر کنٹرول کا اچھا انتظام ز ہونے کی وجہ سے اس آملیٹ میں بیکٹیریا آگئے اور وہ زہر بلا بن گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جہاز کے ۱۴۴ مسافروں کو اسپتال میں داخل کرنا پڑا۔ یہ تمام مریض اگرچہ بعد کو اچھے ہو گئے۔ مگر مذکورہ ائیر لائن کے غذائی منیجر نے خودکشی کر لی (صفحہ ۷) منیجر کی غلطی یہ تھی کہ اس نے اپنے مسافروں کو ناقص خوراک فراہم کی جس کی وجہ سے اس کو کھانے والے بیمار پڑ گئے۔ کمپنی کے منیجر کو اس غلطی کا اتنا نہ یادہ احساس ہوا کہ اس نے اپنے آپ کو ہلاک کر لیا۔ یہی غلطی اس سے بہت زیادہ بڑے پیمانے پر موجودہ زمانہ کے مسلم قائدین نے کی ہے۔ انھوں نے اپنے پیروؤں کو غلط رہنمائی دی۔ انھوں نے بے شمار مسلمانوں کو ایسی سمتوں میں دوڑادیا جس کا مسافر کسی منزل تک پہنچنے والا نہ تھا۔ مگر غلطی واضح ہونے کے بعد بھی ان میں سے کوئی نہ تھا جو "خودکشی" کر لے۔ جو قیادت کے میدان سے واپسی پر راضی ہو جائے۔ ہمارے قائدین کی خوش قسمتی یہ ہے کہ وہ اپنی جھوٹی آپیل کو دھوکا اسلامی پروگرام کہہ سکتے ہیں۔ وہ اپنے بے فائدہ اقدام کو جہاد کا نام دے سکتے ہیں۔ ان کی غیر دانش مندانہ پالیسی سے لوگ برباد ہوں تو اس کو وہ قربانی کا شاندار عنوان دے سکتے ہیں۔ بے معنی ٹکراؤ کی سیاست اختیار کرنے سے لوگ مارے جائیں تو اس کے لئے انہیں شہادت کا خوش نما ٹائٹل مل جاتا ہے ۔ وہ لوگ جو اس قابل بھی نہیں کہ کسی ہوائی کمپنی میں خوراک کے منیجر بن سکیں وہ قوم کے پیچیدہ تر معاملات کے ذمہ دار بنے ہوئے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1984 All issues