دریافت
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۴، صفحہ ۱۶
دریافت
لندن سے ایک کتاب چھپی ہے جس کا نام ہے دریافت کرنے والے :
The Discoverers:
A History of Man's Search to Know His World and Himself by Daniel Boorstin, Randon House, p. 745 مصنف نے اس کتاب میں دریافتوں کی تاریخ کا مطالعہ کیا ہے۔ مختلف لوگ جنھوں نے کسی شعبہ علم میں کوئی نئی چیز یا نیا نظریہ دریافت کیا وہ مصنف کی خصوصی توجہ کا مرکز بنے ہیں۔ مصنف دریافت کرنے والوں کی شخصیت سے اتنا متاثر ہے کہ وہ کہہ اٹھتا ہے کہ میرا ہیرو دریافت کرنے والا انسان ہے: My hero is Man the Discoverer یہ صرف مذکورہ مصنف کی بات نہیں بلکہ یہ عام انسانی فطرت کی بات ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ " دریافت " ہر انسان کی محبوب ترین چیز ہے۔ جو آدمی کسی نئی چیز کا اکتشاف کرے وہ لوگوں کی نظر میں اعلیٰ ترین انسان کا درجہ حاصل کر لیتا ہے۔
حق کا داعی بھی ایک اعتبار سے دریافت کرنے والا (Discoverer) ہوتا ہے۔ وہ باطل کے مقابلہ میں حق کو دریافت کرتا ہے۔ جو چیز لوگوں کو معلوم نہیں ہے اس کو معلوم کر کے لوگوں کے سامنے رکھتا ہے۔ (علم الانسان مالم یعلم)
دریافت حقیقۂ لوگوں کی چھپی طلب کے جواب کا دوسرا نام ہے۔ لوگوں کے دل میں یہ خواہش چھپی ہوئی تھی کہ وہ مواصلات Communications کے لئے تیز رفتار ذریعہ پالیں۔ جب ایک شخص نے تیز رفتار ذریعہ سفر دریافت کیا تو گویا اس نے ہزاروں برس سے لوگوں کی چھپی ہوئی تمنا کو پورا کیا۔ اس بنا پر وہ لوگوں کا محبوب بن گیا۔
یہی معاملہ حق کا ہے۔ ہر دور میں ایسا ہوتا ہے کہ بہت سے خدا کے بندے اس تلاش میں ہوتے ہیں کہ حق کیا ہے اور ناحق کیا۔ صحیح کیا ہے اور غلط کیا۔ اب ایک شخص جو خود بھی اس تلاش سے دوچار تھا وہ حق کو اس کی کامل صورت میں دریافت کرتا ہے۔ اور اس کو لوگوں کے سامنے اس طرح پیش کرتا ہے کہ وہ لوگوں کے چھپے ہوئے سوال کا جواب بن جائے۔ جب ایسا شخص ظہور میں آتا ہے تو بالکل فطری طور پر وہ ان تمام لوگوں کا ” ہیرو “ قرار پاتا ہے جن کو اس نے تلاش کے دلدل سے نکالا تھا۔ دریافت کرنے والا شخص لوگوں کی نظر میں ہیرو بن جاتا ہے اور اسی طرح حق کو دریافت کرنے والا بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1984 All issues