Al-Risala · January 1984 · page 34

ذرہ برابر نیکی

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۴، صفحہ ۳۴

کے کم اچھے اعمال کو ان کے زیادہ اچھے اعمال کے تابع کر دیا جائے گا اور ان کا جو بہتر سے بہتر عمل ہوگا اس کے مطابق ان کو انعام دیا جائے گا۔ (نحل ، ۹) دوسرے لوگ وہ ہیں جنہوں نے خدا کے معاملہ میں حقیقت واقعہ کا اعتراف تو کیا مگر ان کا اعتراف اتنا گہرا نہ تھا جو ان کی عملی زندگی پر چھا جاتا۔

انہوں نے کچھ اچھے عمل کئے اور اسی کے ساتھ بہت سے برے عمل بھی ان سے سرزد ہوئے۔ ایسے لوگوں کے اچھے عمل میں اگر اللہ تعالیٰ واقعی خیر دیکھے گا تو امید ہے کہ ان کے برے اعمال کو ان کے اچھے اعمال کے تابع کر دے۔ وہ ان کے برے اعمال کو نظر انداز کر دے۔ اور ان کو وہ بدلہ دیدے جس کے وہ اپنے بعض اچھے اعمال کے اعتبار سے مستحق تھے (توبہ ۱۰۲)

اللہ کے معاملہ میں کسی شخص کے اندر خیر کا ذرہ پایا جانا یہ ہے کہ وہ چیز اس کے اندر کم مقدار میں پائی جارہی ہو جس کی زیادہ مقدار کسی کو حقیقی معنوں میں صالح العمل بتاتی ہے ۔

وہ ذرہ یہ ہے کہ خدا کی عظمت کو سوچ کر کبھی اس کا دل تڑپ اٹھا ہو۔ خدا کی کبریائی کے تصور سے کبھی اس کے اوپر کپکپی طاری ہوئی ہو۔ اس پر کوئی ایسا لمحہ گزرا ہو جب کہ خدا کی بڑائی کے خیال نے اس سے اپنی بڑائی کے تمام احساسات چھین لئے ہوں۔ زندگی کے کسی موڑ پر اس نے اس ربانی کیفیت کا تجربہ کیا ہو جو خدا کو اپنا خدا بنا کر اور اپنے آپ کو عبد کا مقام دے کر آدمی کے اندر پیدا ہوتی ہے اسی طرح بندوں کے معاملہ میں خیر کا ذرہ وہ ہے جس کو حدیث میں عمل کا آخری درجہ کہا گیا ہے ۔ یعنی دوسروں کو اپنے شر سے محفوظ رکھنا۔ آدمی اگر دوسروں کو فائدہ نہ پہنچائے تو کم سے کم درجہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان اس طرح رہے کہ اس کی ذات سے کسی کو تکلیف یا نقصان نہ پہنچے ۔ اگر آدمی نے دوسروں کو اپنے شر سے بچایا ہو تو یہ اللہ تعالیٰ کے یہاں خیر کا ذرہ شمار ہوگا اور وہ اس کو جہنم کی آگ سے بچانے کا ذریعہ بن جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1984 All issues

Printed page