اسلام کا تعارف
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۴، صفحہ ۳۵
اسلام کا تعارف
کائنات کا ایک خدا ہے جو اس کا خالق اور مالک ہے۔ خدا نے ایک خاص سکیم کے تحت ہم کو پیدا کیا ہے جس کا علم وہ اپنے مخصوص اور منتخب بندوں کے ذریعہ ہم تک بھیجتا ہے جن کو ہم رسول کہتے ہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس سلسلے کے آخری رسول ہیں اور اب تمام دنیا کو آپ کی پیروی کرنی ہے۔ جو شخص آپ کی دعوت کو پاتے اور پھر اس کو قبول نہ کرے۔ وہ صرف آپ ہی کا انکار نہیں کرتا بلکہ در حقیقت خدا کے تمام نبیوں کا انکار کر دیتا ہے۔ ایسا شخص خدا کا وفادار نہیں۔ بلکہ اس کا باغی ہے۔ اور خدا کی رحمتوں میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے۔
جس کی مجھے اس مضمون میں تشریح کرنی ہے۔
خدا کا وجود
سب سے پہلے اس سوال کو لیجئے کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے۔ بعض لوگ اس بات کو نہیں مانتے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سارا کارخانہ محض ایک اتفاقی حادثے کے طور پر وجود میں آگیا ہے۔ اور اپنے آپ چلا جا رہا ہے۔ یکسلے کے الفاظ میں چھ بندر ایک ایک ٹائپ رائٹر لے کر بیٹھ جائیں۔ اور اربوں کھربوں سال تک الٹ ٹپ طریقے سے ان کو پیٹتے رہیں تو ہو سکتا ہے کہ ان کے سیاہ کئے ہوئے کاغذات کے ڈھیر میں کسی صفحے پر شکسپیر کی ایک نظم نکل آئے۔ اسی طرح اربوں اور کھربوں سال تک مادے کے اندھے عمل کے دوران میں بالکل اتفاق سے یہ دنیا بن گئی ہے۔ یہ جواب جس نے صدیوں سے بہت سے لوگوں کو فریب میں مبتلا کر رکھا ہے، یہ دراصل کوئی جواب نہیں ہے۔ بلکہ محض چند الفاظ کا مجموعہ ہے۔ کیونکہ اتفاق یا حادثہ بذاتِ خود کوئی چیز نہیں ہے۔ پھر جو چیز خود ہی اپنا وجود نہ رکھتی ہو وہ کسی دوسری چیز کو وجود میں لانے کا سبب کس طرح بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کائنات کی یہ تشریح کائنات کے اوپر بالکل چسپاں نہیں ہوتی۔ یہ محض ایک بے بنیاد دعویٰ ہے جو ذہنوں میں گھڑ لیا گیا ہے۔ اور کائنات کی حقیقی ساخت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کے برعکس خدا کا تصور کائنات کے ساتھ بالکل ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔ وہ خود کائنات کے اندر سے بول رہا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1984 All issues