محاضرات
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۴، صفحہ ۴۲
تاہم کچھ چیزیں آج بھی اپنی ابتدائی شکل میں موجود ہیں۔ مثلاً بئر رومہ جس کو حضرت عثمان نے ایک یہودی سے خرید کر عام مسلمانوں کے لئے وقف کیا تھا۔ اسی طرح کعب بن اشرف کا قلعہ نما مکان بھی کھنڈر کی صورت میں ابھی تک موجود ہے۔ ہم نے یہ مقامات دیکھے۔ ان کو دیکھ کر عجیب عبرت حاصل ہوئی۔ پھر ہم احد پہاڑ کو دیکھنے گئے۔ یہاں دیگر آثار کے علاوہ وہ شق (غار) بدستور موجود ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شکست کے بعد پناہ لی تھی۔ میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پہاڑ کے اوپر چڑھ کر غار میں داخل ہوا اور ان پتھروں پر دیر تک بیٹھارہا جہاں حسب روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہونے کے بعد بیٹھے تھے۔ اس وقت طبیعت پر عجیب اثر ہوا۔ ایسا معلوم ہوا جیسے تاریخ کا درمیانی وقفہ حذف ہو گیا ہے اور میں براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پہنچ گیا ہوں۔ مدینہ منورہ میں ہمارا آخری پروگرام ۱۱ مارچ ۱۹۸۴ کو النادی الأدبی میں تھا۔ فلسطینی نو جوان مصطفیٰ شاعر ایک روز مجھ کو ایک کتاب کے سلسلے میں ایک دفتر میں لے گئے۔ مگر جب ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہاں کے ذمہ دار اعلیٰ (ڈاکٹر محمد ہاشم رشید) مجھ سے بخوبی واقف ہیں اور میری عربی مطبوعات پڑھے ہوئے ہیں۔ انھوں نے اصرار کیا کہ النادی الأدبی میں بھی ضرور میرا ایک پروگرام ہو۔ چنانچہ مشورہ کے بعد اس کی تاریخ ۱۱ مارچ کی شام طے ہوئی۔ النادی الأدبی کے ذمہ داروں نے اخبار میں اس کا اعلان کر دیا۔ نیز حسب ذیل سرکلر مختلف تعلیم یافتہ افراد کے نام شخصی طور پر روانہ کیا گیا۔ المملكة العربية السعودية الرئاسة العامة لرعاية الشباب نادى المدينة المنورة الادبی يتشرف نادى المدينة المنورة الادبی بدعوة حضر تكم للاشتراك في الندوة المفتوحة التي سيقيمها النادى مع صاحب الفضيلة العلامة الداعية الاسلامي الكبير الشيخ وحيد الدين خان / مساء يوم الاحد الموافق ٩-١٠ / ٦ / ١٤٠٤ هـ بعد صلاة العشاء شاكرين منبا شرة على صالة المحاضرات في مقر النادى بقباء لكم حسن استجابتكم وتعاونكم مع النادى رئيس نادى المدينة المنورة الادبي محمد هاشم رشيد
‹ Previous page Next page › Contents of July 1984 All issues