اسلام کا تعارف
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۴، صفحہ ۳۶
کائنات اتنی پر حکمت اور اتنی منظم ہے کہ اس کا تصور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کسی اتفاقی حادثے کے طور پر وجود میں آگئی ہو۔ زمین پر جاندار چیزوں کی بقا کے لئے جو حالات ضروری ہیں وہ نہایت مکمل طور پر یہاں موجود ہیں۔ کیا محض اتفاق کے نتیجے میں اتنے عمدہ حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ کائنات میں نشانیاں زمین اپنے محور پر ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے لٹو کی مانند گھومتی ہے۔ اگر زمین کی رفتار ایک سو میل فی گھنٹہ ہوتی تو ہمارے دن اور رات اب کے دن اور رات سے دس گنا زیادہ لمبے ہوتے۔ زمین کی تمام ہریالی اور ہماری بہترین فصلیں سو گھنٹے کی مسلسل دھوپ میں جھلس جاتیں اور جو بچ رہتیں وہ لمبی رات میں پالے کی نذر ہو جاتیں۔
سورج جو ہماری زندگی کا سر چشمہ ہے، اپنی سطح پر بارہ ہزار ڈگری فارن ہائٹ سے دہک رہا ہے۔ یہ حرارت اتنی زیادہ ہے کہ بڑے بڑے پہاڑ بھی اس کے سامنے جل کر راکھ ہو جائیں گے۔ مگر وہ ہماری زمین سے اتنے مناسب فاصلے پر ہے کہ یہ " کائناتی انگیٹھی" ہمیں ہماری ضرورت سے ذرہ بھر زیادہ گرمی نہ دے سکے۔ اگر سورج دگنے فاصلہ پر چلا جائے تو زمین پر اتنی سردی پیدا ہوگی کہ ہم سب لوگ جم کر برف ہو جائیں گے۔ اور اگر وہ آدھے فاصلے پر آ جائے تو زمین پر اتنی حرارت پیدا ہوگی کہ تمام جاندار اور تمام پودے جل بھن کر خاک ہو جائیں گے۔ زمین کا کرہ فضا میں سیدھا کھڑا نہیں ہے بلکہ ۲۳ درجے کا زاویہ بناتا ہوا ایک طرف جھکا ہوا ہے یہ جھکاؤ ہمیں ہمارے موسم دیتا ہے اور اس کے نتیجے میں زمین کا زیادہ سے زیادہ حصہ آباد کاری کے قابل ہو جاتا ہے اور مختلف قسم کی نباتات اور پیداوار حاصل ہوتی ہیں۔ اگر یہ جھکاؤ نہ ہوتا تو سمندر سے اٹھتے ہوئے بخارات سیدھے شمال یا جنوب کو چلے جاتے اور ہمارے براعظم برف سے ڈھکے رہتے۔ چاند ہم سے تقریبا ڈھائی لاکھ میل کے فاصلے پر ہے۔ اس کے بجائے اگر وہ صرف پچاس ہزار میل دور ہوتا تو سمندروں میں مدو جزر کی لہریں اتنی بلند ہوتیں کہ تمام کرہ ارض دن میں دو بار پانی میں ڈوب جاتا اور بڑے بڑے پہاڑ موجوں کے ٹکرانے سے گھس کر ختم ہوجاتے۔
یہ ہماری کائنات کے چند نہایت معمولی اور بالکل سادہ واقعات ہیں۔ ان کے سوا بے شمار ایسے واقعات ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ ہماری زمین پر ان کا اجتماع محض اتفاقی طور پر نہیں
‹ Previous page Next page › Contents of January 1984 All issues