ہر چیز عجیب
الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۵
ہر چیز عجیب
موجودہ قسم کی چھتری لندن میں سب سے پہلے ۱۸۴۹ء میں بنائی گئی۔ اس وقت اس کا تعارف ایک شخص نے ان الفاظ میں کرایا تھا: (ٹائمس آف انڈیا ۲۶ مئی 1984)
When opened it was like a small tent, and when shut it was all curiously jointed and would fold up to the length of a man's hand. جب اس کو کھولا جائے تو وہ ایک چھوٹے خیمہ کی مانند ہو جاتی ہے اور جب اس کو بند کیا جائے تو حیرت انگیز طور پر وہ ساری سمٹ جاتی ہے اور لمبائی میں ایک آدمی کے ہاتھ کے برابر ہو جاتی ہے۔ موجودہ صدی کی ابتدا میں ہندوستان کے ایک دیہات میں ایک زمین دار کے یہاں پہلی بار ہینڈ پمپ لگایا گیا۔ جب اس کو چلایا گیا اور زمین کے نیچے سے وہ پانی کھینچ کر نکالنے لگا تو ایک دیہاتی عورت نے اس کو دیکھ کر کہا: "آدمی صرف موت سے ہارا ہے"
یعنی آدمی سب کچھ کر سکتا ہے۔ صرف ایک موت ایسی چیز ہے جس پر قابو پانا اس کے اختیار میں نہیں۔ دو سو سال پہلے چھتری اور ہینڈ پمپ آدمی کو انتہائی عجیب معلوم ہوتے تھے۔ مگر آج آدمی چھتری اور ہینڈ پمپ کو دیکھتا ہے اور اس کے اندر کوئی استعجاب پیدا نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کو دیکھتے دیکھتے اب وہ اس کا عادی بن چکا ہے۔ کوئی چیز جب بار بار آدمی کے سامنے آتی ہے تو وہ اپنا انوکھا پن کھو دیتی ہے۔ اس کے بعد انتہائی عجیب چیز بھی اس کے لئے غیر عجیب بن کر رہ جاتی ہے۔ یہی معاملہ خدا کی تخلیقات کا ہے۔ موجودہ دنیا میں جو چیز بھی ہے نہایت عجیب ہے۔ خواہ وہ ایک چھوٹی پتی ہو یا عظیم سمندر ہو، ایک بے نور ذرہ ہو یار وشن آفتاب ہو۔ مگر آدمی پیدا ہوتے ہی ان کو دیکھتا ہے اور ساری زندگی ہر روز دیکھتا رہتا ہے۔ اس طرح برابر دیکھتے رہنے کی وجہ سے ان کا عجوبہ پن اس کی نظر میں ختم ہو جاتا ہے۔ ان کو دیکھ کر آدمی کے اندر استعجاب پیدا نہیں ہوتا۔ اگر انہیں چیزوں میں سے کسی چیز کو وہ اچانک ایک روز دیکھے تو وہ احساسِ حیرت میں ڈوب جائے۔ یہی موجودہ دنیا میں آدمی کا امتحان ہے۔ اس کو ایک درخت کو اس طرح دیکھنا ہے جیسے کہ وہ پہلی بار اچانک اس کے سامنے کھڑا ہو گیا ہو۔ اس کو ایک سورج کو اس طرح دیکھنا ہے جیسے کہ وہ بالکل پہلی بار اس کے سامنے چمک اٹھا ہو۔ ایک چڑیا کے نغمہ کو اسے اس طرح سننا ہے جیسے کہ اس کے کان پہلی بار اس کے چہچہے سے آشنا ہوئے ہوں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues