Al-Risala · January 1984 · page 37

خدا کے ساتھ ہمارا تعلق

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۴، صفحہ ۳۷

کہ جب بھی ہم اس کے کسی واقعہ کو بیان کرتے ہیں تو در حقیقت ہم اس کو محدود کر دیتے ہیں۔ کائنات کے ایک ایک جز ء کے اندر اتنی حکمتیں ہیں کہ جب بھی ہم اس کی کسی حکمت کا ذکر کرتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا ہم اس کو ایک کمتر درجے کی چیز بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ ایسی ایک کائنات کو خدا کی مخلوق ماننا اگر کسی کو خلافِ عقل معلوم ہوتا ہے تو اس سے زیادہ خلافِ عقل بات یہ ہے کہ اس کائنات کو بے خدا فرض کر لیا جائے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر خدا نے سب چیزیں پیدا کی ہیں تو خود خدا کو کس نے پیدا کیا ہے۔ مگر یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہر حال میں پیدا ہوتا ہے۔ خواہ ہم خدا کو مانیں یا نہ مانیں۔ ہم دو میں سے کسی ایک چیز کو بلا سبب ماننے پر مجبور ہیں۔ یا خدا کو بے سبب مانیں یا کائنات کو۔ ہمارے سامنے ایک عظیم کائنات ہے جس کو ہم دیکھتے ہیں، جس کو ہم محسوس کرتے ہیں۔ ہم مجبور ہیں کہ اس کائنات کے وجود کو تسلیم کریں۔ ہم اس کا انکار نہیں کر سکتے۔ پھر ہم یا تو یہ کہیں کہ کائنات خود سے وجود میں آگئی ہے یا یہ کہیں کہ کوئی اور ہستی ہے جس نے اس کو بنایا ہے۔ دونوں صورتوں میں ہم کسی نہ کسی کو بلا سبب تسلیم کریں گے۔ پھر کیوں نہ ہم خدا کو بلا سبب مان لیں جس کو ماننے کی صورت میں ہمارے تمام سوالات کا جواب مل جاتا ہے۔ جبکہ کائنات کو بلا سبب ماننے کی شکل میں کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ وہ تمام سوالات جو اس مسئلہ کے ارد گرد پیدا ہوتے ہیں وہ سب کے سب بدستور باقی رہتے ہیں۔

بعض لوگوں نے فلسفیانہ موشگافی کے ذریعہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ کائنات کوئی چیز ہی نہیں ہے۔ سب کچھ صرف ہمارا وہم ہے۔ مگر ایک شخص جب یہ بات کہتا ہے تو ٹھیک اسی وقت وہ کائنات کے وجود کو تسلیم کر لیتا ہے۔ آخر یہ سوال ہی کیوں پیدا ہوا کہ کائنات کوئی چیز ہے یا نہیں۔ سوال کا پیدا ہونا خود ظاہر کرتا ہے کہ کوئی چیز ہے جس کے بارے میں سوال درپیش ہے۔ اور کوئی ہے جس کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو رہا ہے ۔ اس طرح فلسفہ تشکیک بیک وقت انسان اور کائنات دونوں کو تسلیم کر لیتا ہے۔

خدا کے ساتھ ہمارا تعلق

خدا کو ماننے کے بعد فورا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ ہمارا تعلق کیا ہے پچاس سال پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ اگر خدا کا کوئی وجود ہے بھی تو اس سے ہمارا تعلق نہیں ہو سکتا۔ مگر جدید کوانٹم نظریہ کے ذریعہ خود سائنس نے اس کی تردید کر دی ہے پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ کائنات

‹ Previous page Next page › Contents of January 1984 All issues

Printed page