Al-Risala · August 1984 · page 6

کوئی بچا نہ سکے گا

الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۶

کوئی بچا نہ سکے گا

مغربی ملکوں کے لوگ عام طور پر گائے کا گوشت کھانا بہت پسند کرتے ں۔ آجکل کے زمانہ میں مغرب کے لوگ کثرت سے ہندوستان آتے ہیں۔ یہ لوگ جب یہاں کسی ”فائیو اسٹار ہوٹل“ میں ٹھہرتے ہیں تو وہ توقع رکھتے ہیں کہ ہوٹل کی طرف سے ان کو ان کی تمام مطلوب چیزیں فراہم کی جائیں گی جن میں اپنی پسند کی غذا بھی لازمی طور پر شامل ہے۔ چنانچہ ہوٹل والے اپنے بیرونی گاہکوں کے سامنے جو مینو کارڈ پیش کرتے ہیں ان کی غذائی فہرست میں گائے کا گوشت (Beef steak) کا لفظ بھی شامل رہتا ہے۔ چونکہ ہندوستان میں گائے کا گوشت ممنوع ہے، اس کی خبر اخبار میں چھپی تو اس پر سخت تنقید ہوئی۔ ایک ایم پی نے پارلیمنٹ میں اس پر سوال کر دیا۔ حکومت ہند نے اس سلسلے میں ہوٹل والوں سے بازپرس کی۔ ہوٹل والوں کا جواب یہ تھا کہ ہم اپنے گاہکوں کو ”بیف“ دیتے ہیں اور بیف انگریزی ڈکشنری کے مطابق گائے اور بھینس دونوں کے گوشت کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

اخباری رپورٹ دٹائنس آف انڈیا (۵ مئی ۱۹۸۴) کے مطابق حکومت ہند کے وزیر سیاحت نے 3 مئی ۱۹۸۴ کو پارلیمنٹ میں بیان دیا۔ انھوں نے آکسفورڈ ڈکشنری میں اس لفظ کے معنی پڑھ کر سنائے جس میں بھینس کا گوشت بھی شامل تھا نہ کہ صرف گائے یا بیل کا گوشت:

The minister read out the Oxford dictionary meaning of "beef", which included the flesh of buffalo as well, and not merely that of cow or ox. اس خبر پر اخبار نے یہ سرخی لگائی ہے: ”ڈکشنری نے فائیو اسٹار ہوٹل کو بچا لیا“۔ موجودہ دنیا میں اس قسم کے واقعات دیکھ کر آدمی غلط فہمی میں پڑ جاتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ موت کے بعد کی دنیا بھی ویسی ہی ایک دنیا ہو گی جیسی موت سے پہلے کی دنیا۔ جس طرح ”ڈکشنری“ موجودہ دنیا میں ہم کو بچا لیتی ہے، اسی طرح وہاں بھی ہم کوئی نہ کوئی ڈکشنری پالیں گے جو ہم کو وہاں کی آفتوں سے بچا لے ۔ مگر اس سے بڑی بھول اور کوئی نہیں۔ موجودہ دنیا میں آدمی کا معاملہ اپنے جیسے انسان سے ہے اس لئے وہ لفظی کرتب دکھا کر اس سے بچ جاتا ہے۔ مگر آخرت میں اس کا معاملہ مالک کائنات سے ہوگا ۔ اور مالک کائنات کے سامنے کسی قسم کا کوئی کرتب کام آنے والا نہیں۔

آخرت کی دنیا میں حقیقی تدبیر ہی آدمی کو بچائے گی نہ کہ کوئی لفظی تدبیر۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues

Printed page