زوال کی علامت
الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۷
زوال کی علامت
عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے۔ انھوں نے ایک قبیلہ کو دیکھا کہ اس کے افراد اکثر دبلے اور کمزور نظر آتے ہیں۔ آپ نے قبیلہ کے کچھ لوگوں سے پوچھا کہ کیا بات ہے کہ تم لوگ اتنے لاغر دکھائی دیتے ہو (ما لكم ضويتم)
انھوں نے جواب دیا کہ اے امیر المومنین، اس کا سبب ہماری ماؤں کا ہمارے باپوں سے (قرب ہونا ہے ( قریب امهاتنا من آبائنا یا امیر المومنین) یعنی ہمارے قبیلہ کے لوگ عرصہ دراز سے یہ کر رہے ہیں کہ وہ صرف آپس میں شادی بیاہ کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ہماری نسلیں کمزور ہو گئی ہیں۔
حضرت عمر نے یہ سن کر فرمایا کہ اجنبیوں میں رشتہ کرو اور شریف بنو۔ (اغربوا انجبوا)، یعنی دور دور شادیاں کرو تو تمھارے یہاں طاقت ور اولاد پیدا ہوگی۔
مسلمانوں میں بعد کے زمانہ میں نسب کی حفاظت کا جو ذہن پیدا ہوا اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہ تھا مثلاً سادات صرف سادات میں شادیاں کرنے لگے۔ اگر اس کی کوئی اہمیت ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر عمل فرماتے۔ حالاں کہ معلوم ہے کہ آپ نے مختلف قبائل اور مختلف نسل کے لوگوں سے نکاح کئے ۔ پچھلے انبیار کے یہاں بھی اس کا اہتمام نہیں ملتا۔ مثلاً حضرت ابراہیم اور آپ کے صاحبزادے نے خاندان سے باہر شادیاں کیں۔
حقیقت یہ ہے کہ نسب کی حفاظت کا یہ تصور سراسر قومی تصور ہے اور جھوٹے فخر کی پیداوار ہے۔ جب حقیقت باقی نہیں رہتی تو آدمی ظاہر کی حفاظت کرتا ہے۔ یہ دور زوال کی علامت ہے۔ دور زوال میں جو خرابیاں پیدا ہوتی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ لوگ حقیقت کے بجائے ظاہری چیزوں کو اہم سمجھ لیتے ہیں اور اسی کی حفاظت میں لگ جاتے ہیں۔
کسی شخص یا قوم کی ناکامی کا سبب ہمیشہ یا تو یہ ہوتا ہے کہ اس نے بیرونی حالات و مشکلات کا کمتر اندازہ کرکے اقدام کر دیا تھا یا اس نے اپنے حصہ کی ذمہ داریوں کو پوری طرح ادا نہیں کیا۔ ان دونوں میں سے کوئی سبب ایسا نہیں جس کا تعلق آدمی کی اپنی ذات کے سوا کسی اور سے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی ناکامی کے بعد اپنے سے باہر اس کی وجہ تلاش کرنا ایک غلطی پر دوسری غلطی کا اضافہ ہے۔ یہ اس وقت کو مزید ضائع کرنا ہے جس کا ایک حصہ پہلے ہی اپنی نادانی سے ضائع ہو چکا ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues