Al-Risala · January 1984 · page 38

خدا کے ساتھ ہمارا تعلق

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۴، صفحہ ۳۸

ایک مشین ہے جو ایک مرتبہ حرکت دینے کے بعد مسلسل چلی جارہی ہے۔ اس نظریہ پر سائنس دانوں کو اس قدر یقین تھا کہ انیسویں صدی کے آخر میں برلن کے پروفیسر میکس پلانک (Max Planck) نے جب روشنی کے متعلق بعض ایسی تشریحات پیش کیں جو کائنات کے مشین ہونے کو غلط ثابت کررہی تھیں تو اس پر سخت تنقیدیں ہونے لگیں اور اس کا مذاق اڑایا گیا۔ مگر اس نظریے کو زبردست کامیابی ہوئی اور بالآخر وہ ترقی کرکے نظریہ مقادیر برقیات Quantum Theory کی صورت میں آج علم طبیعیات کے اہم اصولوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ے پلانک کا نظریہ اپنی ابتدائی شکل میں یہ تھا کہ قدرت چھلانگوں کے ذریعہ حرکت کرتی ہے۔ 1917 میں آئن سٹائن نے اس بات کی وضاحت کی کہ پلانک کا نظریہ صرف عدم تسلسل Discontinuity کو ثابت نہیں کرتا بلکہ زیادہ انقلاب انگیز نتائج کا حامل ہے۔ یہ اصولِ تعلیل کو اس کے بلند مقام سے معزول کر رہا ہے۔ جو اس سے پہلے عالم فطرت کے تمام واقعات کا واحد رہنما سمجھا جاتا تھا۔ قدیم سائنس نے بڑے وثوق سے اعلان کیا تھا کہ قدرت صرف ایک ہی راستہ اختیار کر سکتی ہے جو سبب اور نتیجے کی مسلسل کڑیوں کے مطابق اس کے آغاز سے لے کر انجام تک معین ہو چکا ہے۔ مگر اب معلوم ہوا کہ یہ محض ناقص مطالعہ کا نتیجہ تھا۔ پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ خدا کو اگر ماننا ہی ہے تو سبب اول کی حد تک اسے مان لو ورنہ آج کائنات کو خدا کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اب معلوم ہوا کہ کائنات صرف حرکت اول ہی کے لئے کسی محرک کی محتاج نہیں رکھتی بلکہ وہ ہر آن حرکت دئیے جانے کی محتاج ہے۔ کوانٹم نظریہ دوسرے لفظوں میں یہ بتاتا ہے کہ کائنات ایک خود چالو مشین نہیں ہے بلکہ وہ ایک ایسی مشین ہے جس کو ہر آن چلایا جا رہا ہے گویا ایک حیی و قیوم ہستی کا مسلسل فیضان ہے جو اس کو باقی رکھے ہوئے ہے۔ اگر ایک لمحے کے لئے بھی وہ اپنا فیضان واپس لے لے تو ساری کائنات اس طرح ختم ہو جائے گی جیسے سینما گھر میں بجلی کا سلسلہ ٹوٹنے سے پردہ سیمین کے سارے واقعات غائب ہو جاتے ہیں اور ناظرین کے سامنے ایک سفید کپڑے کے سوا اور کچھ نہیں رہتا۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اس دنیا کا ہر ذرہ اپنے وجود اور حرکت کے لئے ہر آن قادر مطلق سے اجازت طلب کرتا ہے۔ اس کے بغیر وہ اپنی ہستی کو قائم نہیں رکھ سکتا۔

کائنات کے ساتھ خدا کا یہ تعلق خود بتاتا ہے کہ انسان کے ساتھ اس کا تعلق کیا ہونا چاہئے۔ ے تفصیل کیلئے ملاحظہ ہو۔ ماڈرن سائنس لفت تھاٹ، صفحات ۱۲ - ۲

‹ Previous page Next page › Contents of January 1984 All issues

Printed page