اختلافات
الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۲۲
کفر سے زیادہ سخت جرم نہیں۔ پھر جب کفر معاف ہو سکتا ہے تو قتل کیوں نہیں معاف ہو سکتا۔ جب کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے ، کہ جن لوگوں نے کفر کیا ہے اگر وہ باز آجائیں تو ان کا پچھلا سب کچھ معاف کر دیا جائے گا۔ (انفال ۳۷)
انسانوں کے درمیان اختلافات ہونا بالکل ناگزیر ہے۔ لوگ خواہ کتنے ہی صالح اور نیک نیت کیوں نہ ہوں، ان کے درمیان اختلافات ہوں گے۔ اختلافات کو ختم کرنا مطلوب نہیں ہے۔ البتہ جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ اختلافات کا اثر آدمی کے اخلاق اور برتاؤ پر نہ پڑے ۔
صحابہ کے درمیان بہت سے بڑے بڑے اختلافات تھے جس کی چند مثال اوپر نظر آتی ہے۔ اس کے باوجود ان کے درمیان آپس میں کدورت پیدا نہیں ہوئی۔ مگر یہی وہ اختلافات تھے جن کی بنیاد پر بعد کے زمانہ میں ایسے فرقے بنے جو کبھی ختم نہ ہو سکے۔
ایک اختلاف اور دوسرے اختلاف میں اس فرق کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ کرام زندہ لوگ تھے اور ان کے بعد ان کا نام لینے والے مردہ لوگ۔ صحابہ کرام کا ایمان شعوری ایمان تھا اور بعد کے لوگوں کا ایمان صرف وراثتی ایمان۔ صحابہ کرام اختلاف اور اتفاق کے حدود کو جانتے تھے۔ اور بعد کے لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اختلاف کے حدود سے بھی نا واقف ہیں اور اتفاق کے حدود سے بھی نا واقف۔
ایک انسان اور دوسرے انسان میں مختلف اعتبار سے اتنا زیادہ فرق ہوتا ہے کہ ان کے درمیان اختلافات کا پیدا ہونا بالکل ناگزیر ہے۔ اب ایک طرف یہ مسئلہ ہے اور دوسری طرف یہ حقیقت ہے کہ موجودہ دنیا میں اجتماعیت ہی سب سے بڑی طاقت ہے۔ پھر اختلاف کے باوجود اجتماعی اتحاد کے مقصد کو کس طرح حاصل کیا جائے۔
اس کی ایک ہی قابل عمل صورت ہے۔ وہ یہ کہ ہر آدمی اختلاف کے باوجود متحد ہونے پر راضی ہو جائے۔ ہر آدمی شعوری طور پر یہ طے کر لے کہ وہ اختلاف کو صرف ذہنی اختلاف کے درجہ میں رکھے گا۔ اس کو عملی رکاوٹ یا قلبی بد مزگی تک نہیں جانے دے گا۔
یہ وہ اصول ہے جس پر ہر آدمی اپنے گھر اور خاندان کے اندر روزانہ رہتا ہے۔ اسی فطری اصول کو گھر سے باہر کی زندگی میں اختیار کر لینے کا نام اتحاد ہے۔ آدمی اپنے گھر کے نظم کو باقی رکھنا چاہتا ہے اس لئے وہ گھر کے اندر" اختلاف کے باوجود اتحاد“ کے اصول پر کار بند رہتا ہے۔ یہی جذبہ گھر کے باہر کے لئے پیدا ہو جائے تو یہاں بھی وہ اختلاف کے باوجود اتحاد پر قائم رہے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues