Al-Risala · August 1984 · page 23

اپنی غلطی

الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۲۳

اپنی غلطی

پروفیسر فریڈرش وان ہایک (پیدائش ۱۸۹۹) ایک برطانی مفکر ہیں۔ انھوں نے اپنی کتاب میں مغربی تہذیب کی ناکامی پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہم اپنی تہذیب کے موجودہ بحران کی تقریباً ہر توجیہہ قبول کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں، سوا ایک توجیہہ کے : یہ کہ دنیا کی موجودہ حالت خود ہماری اپنی واقعی غلطی کا نتیجہ ہوسکتی ہے اور یہ کہ اپنے کچھ بہت محبوب مقاصد کی طرف ہماری دوڑ نے بظاہر اس سے مختلف نتیجہ پیدا کیا ہے جس کی ہم اس سے امید کر رہے تھے: We are ready to accept almost any explanation of the present crisis of our civilisation except one: that the present state of the world may be the result of genuine error on our part, and that the pursuit of some of our most cherished ideals has apparently pro- duced results different from those which we expected. Friedrich Von Hayek, The Road to Serfdom, London, 1944 یہ کمزوری جس کی طرف برطانی پروفیسر نے اشارہ کیا ہے، یہ اقوام عالم کی عام کمزوری ہے۔ اور خود موجودہ مسلمانوں میں یہ کمزوری بہت بڑے پیمانہ پر پائی جاتی ہے۔ (۲۴ جون ۱۹۸۴) موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے اپنے احیاء کے لئے بے شمار بہت بڑی بڑی تحریکیں چلائیں۔ یہ تمام تحریکیں پر شور ہنگاموں کے باوجود اپنے اصل مقصد میں سراسر ناکام رہیں ۔ جب یہ سوال سامنے آتا ہے کہ ان '' عظیم الشان تحریکوں کی ناکامی کا سبب کیا ہے تو مسلمان ہمیشہ کچھ بیرونی دشمن یا خارجی اسباب پا لیتے ہیں جن کو وہ اپنی ناکامی کا ذمہ دار قرار دے سکیں ۔ یہ بات کسی طرح ان کی سمجھ میں نہیں آتی کہ خود ان کے قائدین کا غلط تجزیہ یا ناقص منصوبہ بندی ان کی ناکامیوں کا اصل سبب ہو سکتا ہے۔ کسی واقعہ کا سبب اگر اپنے اندر ہو اور اس کو آپ باہر ڈھونڈنے لگیں تو یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنے سر درد کے اسباب کو ہوا میں تلاش کرنے لگے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues

Printed page