کامیابی اپنے ہاتھ میں
الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۲۴
کامیابی اپنے ہاتھ میں
تھامس فلر کا قول ہے "پرندے اپنے پاؤں کے سبب سے جال میں پھنستے ہیں اور انسان اپنی زبان کے سبب سے " انسان کی زبان اگرچہ بظاہر اس کے جسم کا بہت کمزور حصہ ہے مگر زندگی میں اس کا رول بے حد اہم ہے۔ زبان سے بولے ہوئے چند الفاظ آدمی کو مصیبت میں پھنسا دیتے ہیں اور زبان سے بولے ہوئے دوسرے قسم کے کچھ الفاظ اس کو مصیبت سے بچا لیتے ہیں۔
ایک شخص ایک کارخانہ میں کام کرتا تھا۔ کارخانہ کا مالک اس کو بہت مانتا تھا۔ وہ اس کی صلاحیتوں کا بہت قدرداں تھا۔ ایک بار کارخانہ میں پیسہ کی کمی پڑ گئی۔ مالک نے بڑی مشکل سے کارکنوں کی تنخواہیں دیں۔ تا ہم اس نے مذکورہ شخص کی تنخواہ روک لی۔ کئی مہینے اسی طرح ہوا۔ اس " امتیازی سلوک " پر وہ شخص بگڑ گیا۔ ایک روز مالک سے مل کر اس کو سخت سخت باتیں سنائیں ۔
یہ برہمی اس شخص کے حق میں الٹی ثابت ہوئی۔ مالک نے اس کو اپنا سمجھ کر ایسا کیا تھا۔ اس کا ارادہ تھا کہ پیسہ آنے پر وہ نہ صرف اس شخص کو پوری تنخواہ دے گا بلکہ اس میں اضافہ کر دے گا۔ مگر زبان کے غلط استعمال نے دونوں کے درمیان نفرت پیدا کر دی۔ محبت دشمنی میں تبدیل ہوگئی۔ مالک نے اس کی زبان درازی کی یہ سزا دی کہ اس کی تنخواہ مزید روک دی اور کار خانہ سے بھی اس کو نکال دیا۔ اس کے بعد کئی سالوں تک دونوں کے درمیان مقدمہ بازی ہوتی رہی۔ اگر وہ چپ رہتا تو وہ فائدہ میں رہتا مگر بول کر اس نے صرف نقصان اٹھایا۔
اس آدمی کو یہ غیر ضروری نقصان صرف اس لئے ہوا کہ وہ اپنی زبان پر قابو نہ رکھ سکا۔ ایک مغربی کہاوت ہے کہ " دو برائیوں میں سے چھوٹی برائی کو اپنے لئے پسند کر لو! " زندگی میں بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کامل برائی اور کامل بھلائی کے درمیان انتخاب کا موقع ہو۔ زیادہ تر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کو ایک برائی اور دوسری برائی کے درمیان انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ مذکورہ آدمی کے سامنے ایک طرف وقتی مسئلہ تھا اور دوسری طرف مستقل مسئلہ۔ اس نے وقتی مسئلہ کو برداشت نہیں کیا ، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کو مستقل نقصان برداشت کرنے پر راضی ہونا پڑا۔
ایک ہندی شاعر نے کہا ہے " چوٹ ہے جو شبد کی وائے گرو میں داس " لفظ کی چوٹ میں نہ خون بہتا اور نہ پاؤں ٹوٹتا مگر آدمی کے لئے وہ لاٹھی اور بھالے سے بھی زیادہ سخت ہے۔ اکثر آدمیوں کا حال یہ ہے کہ وہ لفظ کی نفسیاتی چوٹ کو سہہ نہیں پاتے ۔ اس لئے انھیں بڑے بڑے عملی نقصانات سہنے پڑتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues