کامیابی اپنے ہاتھ میں
الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۲۵
آدمی اگر لفظ کی چوٹ برداشت کر لے تو وہ نارمل حالت میں رہتا ہے، وہ اپنی حاضردماغی کو نہیں کھوتا۔ اس بنا پر وہ اس پوزیشن میں رہتا ہے کہ وہ زیادہ بہتر طور پر اپنے مسئلہ کے حل کی تدبیر سوچ سکے۔ وہ لفظ کی چوٹ سہہ کر زیادہ کامیابی کے ساتھ وہ چیز حاصل کر لیتا ہے جس کو وہ لفظ کی چوٹ نہ سہہ کر حاصل کرنا چاہتا تھا مگر وہ حاصل نہ کر سکا۔
بوکر واشنگٹن امریکہ کا مشہور نیگرو گزرا ہے۔ ایک روز اس کو ایک ٹرین پکڑنی تھی۔ اس کو گھر سے نکلنے میں دیر ہوگئی وہ تیزی سے سڑک پر آیا تاکہ کسی سواری کے ذریعہ جلد از جلد اسٹیشن پہنچ سکے ۔ وہ ایک گھوڑا گاڑی کے پاس آیا اور ڈرائیور سے کہا کہ میرے پاس وقت کم ہے تم مجھے فوراً اسٹیشن تک پہنچادو ڈرائیور نے اس کی طرف دیکھا اور کہا کہ میں نے آج تک کسی کالے آدمی کے لئے اپنی گاڑی نہیں چلائی میں تم کو نہیں لے جا سکتا۔
بوکر واشنگٹن نے کہا: "ٹھیک ہے۔ تم پچھلی سیٹ پر چلے جاؤ، میں گاڑی چلانے کا کام کروں گا۔ " یہ سن کر ڈرائیور حیرانی میں پڑ گیا۔ وہ خاموشی سے پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ بوکر واشنگٹن گھوڑے کو ہانکتا ہوا اسٹیشن لے گیا اور گاڑی پکڑلی۔
زرتشت نے کہا ہے کہ "بھلائی کرنا فرض نہیں فائدہ ہے کیوں کہ بھلائی تمھارے سکھ میں اضافہ کرتی ہے" یہ ایک حقیقت ہے کہ بھلائی کر کے آدمی خود اپنے آپ کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ بوکر واشنگٹن اگر برے الفاظ کے جواب میں برے الفاظ بولتا تو وہ اپنے مسئلہ کو اور زیادہ مشکل بنا لیتا۔ کیوں کہ اس کے برے الفاظ گاڑی والے کو برہم کر دیتے اور وہ زیادہ شدت کے ساتھ اس کو اسٹیشن لے جانے سے انکار کر دیتا مگر بوکر واشنگٹن نے جب برے الفاظ کا جواب بھلے الفاظ سے دیا تو دوسرا آدمی بھی نرم پڑ گیا۔ پہلے اس کا دل جس خدمت کے لئے تیار نہ تھا اب اس نے اپنے آپ کو اس خدمت کے لئے آمادہ پایا۔ پاؤں ٹوٹنے کے بعد بھی "جو آدمی ارادہ کر سکتا ہے اس کے لئے کچھ بھی ناممکن نہیں"، ایفرسن کا یہ قول زندگی کی ایک بہت بڑی حقیقت کو بتاتا ہے وہ یہ کہ موجودہ دنیا میں انسان کے لئے امکانات اتنے زیادہ ہیں کہ وہ کبھی ختم نہیں ہوتے۔ اگر آدمی کے اندر سچے ارادہ کی طاقت ہو تو وہ ہر مشکل کو آسان کرلے گا۔ راستے کی ہر رکاوٹ اس کے لئے اپنی منزل تک پہنچنے کا زینہ بن جائے گی۔
امکان کبھی ختم نہیں ہوتا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کی مثالیں پوری انسانی تاریخ میں پھیلی ہوئی ہیں، یہاں ہم ایک تازہ اور جیتی جاگتی مثال پیش کریں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues