Al-Risala · August 1984 · page 26

کامیابی اپنے ہاتھ میں

الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۲۶

سودھا چندرن جنوبی ہند کی ایک رقاصہ ہے۔ وہ سولہ سال کی تھی کہ ۲ مئی ۱۹۸۱ کو ایک حادثہ میں اس کا دایاں پاؤں ٹوٹ گیا۔ وہ فوری طور پر ایک مقامی اسپتال میں داخل کر دی گئی۔ وہاں ڈاکٹروں سے یہ غلطی ہوئی کہ اینٹی ٹینس انجکشن اور دوسری ضروری احتیاطوں کے بغیر اس کے پاؤں پر پلاسٹر باندھ دیا گیا۔ چند دن بعد تکلیف بڑھی تو اس کے والدین اس کو مدراس لے گئے اور ایک بڑے اسپتال میں داخل کیا و ہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کوٹٹنس کا اثر ہو چکا ہے۔ کافی کوشش کے باوجودا فاقہ نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ اس کا پاؤں پنڈلی کے نیچے سے کاٹ دیا گیا۔

کسی کا قول ہے ”محبت ہر رکا وٹ کو دور کر دیتی ہے یہ قول سودھا چندرن کے معاملہ میں لفظ بلفظ صحیح ثابت ہوا۔ اس کو رقص سے بے پناہ محبت تھی۔ پاؤں کٹنے کے بعد اس کا یہ حال ہوا کہ وہ روتی تھی اور کہتی تھی کہ میں تو رقص کرنا چاہتی ہوں، کیا میں دوبارہ رقص کر سکوں گی؟ I want to dance. Will I dance again? اس کے بعد اسپتال میں اس کے ساتھ بھی وہی کیا گیا جو ہر ایسے مریض کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اس کا پاؤں پنڈلی کے پاس سے کاٹ دیا گیا اور اس کی جگہ جدید طرز کا مصنوعی پاؤں ( جے پور فٹ) لگا دیا گیا۔ ڈاکٹرپی کے سیٹھی (جنہوں نے جے پور فٹ ایجاد کیا ہے) کی ملاقات سودھا چندرن کے استاد سے ہوئی۔ انھوں نے ڈاکٹر سیٹھی سے اپنے شاگرد کے شوق کا حال بتایا۔ انھوں نے جواب دیا کہ سودھا کے اندر اگر واقعہ خواہش ہے تو وہ ایک عام آدمی کی طرح رقص کرنے کے قابل ہو جائے گی۔ اس کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ کچھ زیادہ محنت کرے اور ابتدائی تکلیف کو برداشت کرلے:

Sudha would be able to dance like any one with normal limbs. Only one had to be tough to put in the extra effort and bear initial pain. یہاں دوبارہ سودھا چندرن کے لئے کسی مفکر کا یہ قول صحیح ثابت ہوا کہ " تکلیف ، ہماری خوشیوں کی قیمت ہے۔ جو شخص تکلیف کو برداشت کرلے وہ خوشی کو بھی ضرور پا کر رہے گا۔ " سودھا چندرن کو ڈاکٹر سیٹھی کی بات بتائی گئی تو وہ فوراً اس کے لئے تیار ہو گئی کہ وہ " ابتدائی تکلیف کو برداشت کرے گی۔ اس نے کوشش شروع کر دی۔ وہ اپنے مصنوعی پاؤں پر مشق کرتی رہی یہاں تک کہ وہ دوبارہ کامل رقاصہ بن گئی۔

سودھا چندرن نے یکم اپریل 1984 کو بمبئی میں اپنے رقص کا مظاہرہ کیا۔ وہاں رقص کے ماہرین موجود تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ سودھا چندرن نے اتنا کامیاب رقص کیا کہ ان کے لئے یہ اندازہ کرنا مشکل تھا کہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues

Printed page