Al-Risala · August 1984 · page 27

حالات سے مطابقت

الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۲۷

اس کے دونوں پیروں میں سے کون سا پیر فطری ہے اور کون سا مصنوعی (ٹنا درن انڈیا پتریکا ۲۲ اپریل ۱۹۸۳ ) رقص جیسے حقیر مقصد کے لئے ایک عورت نے اتنی غیر معمولی جد و جہد کی۔ پھر جو لوگ حق وصداقت جیسی بر تر چیز کو اپنا مقصد بنائیں اس کے لئے ان کی جد و جہد تو اس سے بھی زیادہ ہونی چاہئے۔

” زیادہ دشواری کو حل کرنے کا سب سے زیادہ یقینی ذریعہ زیادہ محنت ہے “ کسی کا یہ قول محض قول نہیں بلکہ زندگی کی ایک سادہ حقیقت ہے۔

جو شخص زندگی میں کسی رکاوٹ سے دوچار ہو جائے وہ بھی اسی طرح کامیاب زندگی حاصل کر سکتا ہے جیسے بے رکاوٹ والے لوگ حاصل کرتے ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ وہ عام حالات سے کچھ زیادہ محنت کے لئے تیار ہو جائے اور ابتدائی مشقتوں کو برداشت کر لے۔

حالات سے مطابقت

ہر برٹ نکولس (Herbert L. Nicholas) نے لکھا ہے کہ میں نے کسی کتاب میں ایک بار ایک بوڑھے آدمی کا قصہ پڑھا جو ساری زندگی مسلسل سخت تکلیفوں میں مبتلا رہا۔ اس کے با وجود وہ ہمیشہ خوش اور مطمئن رہتا تھا۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ تمہارے سکون واطمینان کار از کیا ہے تو اس نے جواب دیا؛ I learned to cooperate with the inevitable میں نے ان چیزوں سے موافقت کرنا سیکھ لیا جن سے بچنا ممکن نہیں۔

زندگی میں بہت سی ایسی چیزیں پیش آتی ہیں جو ہمارے اختیار سے باہر ہوتی ہیں۔ ایسی چیزوں سے مقابلہ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ان سے مقابلہ نہ کیا جائے ۔ اس طرح ہم غیر ضروری الجھن اور ذہنی تناؤ (Tension) سے بچ سکتے ہیں۔ یہ طریقہ ہم کو اس قابل بناتا ہے کہ ہم اپنی قوتوں کو وہاں خرچ کریں جہاں کوئی نتیجہ نکل سکتا ہے۔ اپنی قوتوں کو وہاں ضائع نہ کریں جہاں بالآخر وہ صرف بے نتیجہ ہو کر رہ جانے والی ہیں۔

یہی موجودہ دنیا میں زندگی کا اصول ہے ۔ یہ اصول کسی ایک شخص کے لئے بھی کارآمد ہے اور پوری قوم کے لئے بھی۔

نوٹ: آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے ۱۵ - ۱۴ مئی ۱۹۸۳ کو نشر کیا گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues

Printed page